وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم اور ان کے وزراء نواز شریف، تین جرنیلوں، سابق وزیر داخلہ، سابق وزیر خارجہ، سابق وزیر دفاع، درجنوں ایم این ایز اور ایم پی ایز کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر سے لاعلم نکلے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری اور شیری مزاری نے بغاوت کے پرچے کی مخالفت کر دی مگر شیخ رشید اور فروغ نسیم نے بغاوت کے مقدمے میں ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہے۔
کابینہ کے اجلاس میں فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مقدمے درج کر کے ہم اپوزیشن کی مدد کر رہے ہیں۔
ان کا نکتہ نظر تھا کہ اپوزیشن اس وقت اپنی کرپشن بچانے کے لیے لڑ رہی ہے اور ہم انہیں ہیرو بنا رہے ہیں۔ کابینہ اجلاس میں مزید کہا گیا کہ سب کو پتہ ہے اپوزیشن کرپٹ ہے اور رعایتیں چاہتی ہے۔
وزیراعظم نے کابینہ میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ بغاوت کے مقدمات درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہمیں اپوزیشن کا مقابلہ اپنا بیانیہ دے کر کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ سیاسی ایشوز کا مقابلہ سیاسی حکمت عملی سے ہوگا، مقدموں سے نہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے خود کو مقدمہ سے دور کر لیا، بہت جلد خارج ہوجائے گا۔
کابینہ کو مہنگائی پر بریفنگ مہنگی پڑ گئی
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراء مہنگائی پر پھٹ پڑے۔ وزراء نے کابینہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا بڑا دشمن مہنگائی ہے، نواز شریف نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سب کچھ مہنگا ہوگیا ہے، ہمیں بتائیں ہم کیا کہیں۔ گیس بجلی کی قیمتیں بڑھ رہیں، لوگ تنگ ہیں۔
وزیروں نے کابینہ میں چبھتے ہوئے سوالات اٹھائے ہوئے پوچھا کہ ہمیں بتائیں بجلی کیسے سستی ہوگی۔
بعض وزراء کا شکوہ
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بعض وزراء نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی پر دی گئی بریفنگ بہت تکنیکی نوعیت کی ہے، ہمیں سمجھ نہیں آتی۔
کابینہ کو بجلی پر بریفنگ وفاقی وزیر عمر ایوب نے دی، وفاقی کابینہ کو اس مسئلے پر دوسری مرتبہ بریفنگ دی گئی ہے۔ گزشتہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس ایشو کی آسان زبان میں تفصیل بتانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
وزیر اعظم عمران خان خفا
وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے گندم کی امپورٹ میں تاخیر پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب میں کیسے چھوٹے چھوٹے کام بھی خود دیکھوں؟
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے 15 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کی منظوری دی تھی جبکہ ای سی سی نے کام نہیں کیا۔ مجھے اب چھوٹے چھوٹے ایشوز کا کیا علم، آپ وزیر ہیں آپ نے کام کرنا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ای سی سی قسطوں میں گندم منگوارہی ہے جبکہ میں نے 15 لاکھ ٹن کی منظوری دی تھی۔