امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے چین کو روکنے کے لیے آسٹریلیا، بھارت اور جاپانی ہم منصبوں سے ملاقات طے کی ہے۔
چاروں ممالک کے سیکرٹری خارجہ نے مل کر ایک کواڈ یا چار رکنی گروہ تشکیل دیا ہے اور چین کی بڑھتی خوداعتمادی کے خلاف محاذ بنانے کا ارادہ کیا ہے۔
امریکہ سے روانہ ہونے سے پہلے مائیک پومپیو نے میڈیا سے بات کرتے پوئے بتایا تھا کہ وہ کافی لمبے عرصے سے اس ملاقات کے لیے طے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔
امریکہ اور چین کے دوطارفہ تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے تناؤ کا شکار ہیں جس کے بعد امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ باہمی تعاون بڑھانے پر کام شروع کر دیا ہے۔
ملاقات میں چاروں ممالک کے سیکرٹری خارجہ کورونا کی صورتحال اور سائبر سیکیورٹی پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
مائیک پومپیو نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا ہے کہ ملاقات میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک آزاد انڈوپیسفک خطے کے لیے باہمی تعاون بڑھائیں گے جو خودمختار، مضبوط اور خوشحال اقوام کا مجموعہ ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وینگ وینبن کا کہنا ہے کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ممالک خطے کے عام مفاد کے لیے آگے بڑھیں گے اور ایسے اقدامات کریں گے جو خطے کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے سازگار ہوں گے۔
واضح رہے اس چار فریقی اتحاد یا کواڈ کو 2007 میں تشکیل دیا گیا تھا، فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں امریکہ، جاپان، بھارت اور آسٹریلیا کے حکام نے اتحاد کی پہلی میٹنگ میں شرکت کی تھی۔
یہ غیررسمی اتحاد اس وقت کے جاپان کے وزیراعظم شنزوایبے کی کوششوں سے قائم کیا گیا تھا جو صرف چین کے بڑھتے اثرورسوخ کے مقابلے کے لیے بنایا گیا تھا۔
چین کی جانب سے جب کواڈ سے متعلق احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تو ان ممالک کی جانب سے اس بات کی ترید کی گئی ہے کہ یہ اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف بنایا گیا ہے۔
اتحاد کے ممبران کا کہنا تھا کہ یہ گروہ صرف علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
جاپانی وزیراعظم شزوایبے کی ریٹائرمنٹ کے بعد یوشیدا سوگا نے ان کی جگہ سنبھالی تو امید کی جارہی تھی کہ وہ اپنے پیش رو کی جانب سے بنائے گئے اتحاد کو اہمیت دیں گے۔
بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ ونگ فیلڈ لکھتے ہیں کہ یوشیدہ سوگا نے صرف معاشی اصلاحات پر زور دیا، ان کے پاس خاجہ پالیسی کا کوئی خاص تجربہ نہیں ہے۔
کواڈ کی مستقبل قریب میں ہونے والی اس میٹنگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہے جب امریکہ، آسٹریلیا اور بھارت کے چین کے ساتھ تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔
امریکہ اور چین کے تعلقات 2007 سے سرد جنگ کا شکار ہیں، حالیہ کچھ مہینوں میں دونوں ممالک میں تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں، جن میں جاسوسوں کی گرفتاری، کورونا کی وبا اور امریکہ کی طرف سے چینی طلبا کے ویزے منسوخ کرنا جیسے واقعات شامل ہیں۔
آسٹریلیا اور چین کے تعلقات بھی گزشتہ ماہ سے تلخی کا شکار ہیں۔ گزشتہ ماہ چین میں آسٹریلیا کے لیے کام کرنے والے دوصحافیوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔
چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعے کے باعث دونوں ممالک کی سیکیورٹی فورسز میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔