بیجنگ: چین عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کووڈ 19 ویکسین کی تقسیم کے لیے بنائی گئی اسکیم کوویکس کا حصہ بن گیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کورونا ویکسین کی عالمی تقسیم کے لیے تیار کی گئی اسکیم کا حصہ بننے سے انکار کر چکے ہیں۔
ایک سروے رپورٹ کے مطابق بیجنگ کو کورونا وائرس کے خلاف عالمی جنگ میں شامل ہونے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق کورونا وبا کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں کی جانے والی غلطیوں نے چین کا تاثرعالمی سیاست میں خراب کیا ہے۔
چینی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا ویکسین کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کو اس اسکیم کے تحت ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی اس اسکیم کا حصہ بنیں گے۔
ترجمان کے مطابق آئندہ سال کے آخر تک کورونا ویکسین کی دو بلین خوراکیں دنیا بھر میں تقسیم کی جائیں گی۔
رواں سال مئی میں چینی صدر نے کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے دو بلین ڈالر دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق چین عالمی ادارہ صحت سے مقامی سطح پر بنائی گئی ویکسین کو بھی دنیا بھر میں بھیجنے کے ارادے سے بات چیت کر رہا ہے۔
171 ممالک عالمی ادارہ صحت کی بنائی گئی اسکیم کا حصہ بن چکے ہیں، ان ممالک میں 76 ترقی یافتہ اور خودکفیل ممالک شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق روس اور امریکا تاحال اسکیم میں شامل نہیں ہوئے۔
کوویکس اسکیم میں بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاونڈیشن کے ادارے جی اے وی آئی نے بھی اشتراک کیا ہے، جس کا مقصد مقامی حکومتوں کو کورونا ویکسین کی ذخیرہ اندوزی سے روکنا بھی ہے۔
جی اے وی آئی کے سربراہ ڈاکٹر سیٹھ بارکلے کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک سے ویکسین کی فراہمی کے حوالے سے سودے ہورہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ترقی پذیر ممالک کو ویکسین فراہم کرنے کے لیے کی جانے والی فنڈریزنگ کے ہدف کے قریب ہیں۔
انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چند ماہ قبل جو ویکسین دنیا بھر کو فراہم کرنا ناممکن لگ رہا تھا اب حقیقت بننے جا رہا ہے۔