معروف ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں اورنج اور پروکسی مس نے بیلجیئم میں فائیو نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے نوکیا کا انتخاب کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ، چین تنازعات کے باعث بیلجیئم میں چینی کمپنی ہواوے کو فائیو جی نیٹ ورک قائم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، حکام کا کہنا ہے کہ ایسا امریکی دباؤ کے تحت کیا گیا ہے۔
یورپ میں کمرشل آپریٹر کی جانب سے یہ فیصلہ ہواوے کو نیکسٹ جنریشن نیٹ ورک کی دوڑ سے باہر کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے سفارتی دباؤ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے، کہا گیا ہے کہ بیلجیئم جاسوسی کے لیے ہواوے کے آلات کو استعمال کر سکتا ہے۔
بیلجیئم کا دارالحکومت برسلز یورپی یونین کی ایگزیکٹو باڈی اور پارلیمنٹ کا گھر کہلاتا ہے جس نے اسے امریکی ایجنسیوں کے لیے ایک حساس علاقہ بنا دیا ہے۔
دنیا بھر میں ٹیلی کام کے بہترین آلات فراہم کرنے والی کمپنی ہواوے نے واشنگٹن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کمپنی کو بیلجیئم میں فائیو جی کی دوڑ سے باہر کیے جانے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اورنگ اور پراکسی مس کے فیصلے کو قبول کر لیا ہے۔
ہواوے کے ترجمان نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ آپریٹرز کے پیش کیے گئے ٹینڈر اور آزاد کمیونیکیشن مارکیٹ کا نتیجہ ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ہواوے گزشتہ ایک دہائی سے بیلجیئم میں ٹیلی کام آلات فراہم کر رہا ہے اور ہمارا معاہدہ تبدیل نہیں ہو گا۔
نوکیا موبائل نیٹ ورک کے صدر ٹومی ایٹو نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ میں 2003 سے بیلجیئم اورنج کے ساتھ معاہدے کی کوشش کر رہا تھا اور آخر کار ہم کامیاب ہو گئے ہیں۔