پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وبا کی وجہ سے ذہنی تناؤ، پریشانی اور دباؤ جیسے امراض رپورٹ ہوئے ہیں۔
کراچی میں ذہنی صحت کے حوالے سے منقعد کی گئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ کورونا کے بعد جہاں دنیا کو معاشی مسائل کا سامنا ہے وہیں ذہنی صحت بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر رہ گئی ہے۔
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر میں منقعد کی گئی کانفرنس سے پاکستان اور دنیا بھر کے ماہرین صحت نے خطاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں اینزائیٹی اور ڈپریشن جیسے امراض کا علاج کرانے کے لیے لوگ ماہرین نفسیات سے رابطہ کر رہے ہیں۔
کانفرنس کے مہمان خصوصی پروفیسر ہارون احمد کا کہنا تھا کہ کورونا نے دنیا بھر میں ذہنی صحت کی بحران جیسے مسائل کھڑے کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لوگ کورونا کے باعث ہونے والی پریشانی اور مشکل تجربات سے گزرنے کے بعد لوگ پوسٹ ٹرامیٹیک اسٹریس ڈس آرڈرز جیسے امراض کی شکایت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث لوگوں میں ڈپریشن کی ایک نئی قسم دیکھنے میں آئی ہے جسے کلینیکلی ڈپریشن نہیں کہا جا سکتا لیکن اس کی علامات ڈپریشن سے ملتی ہیں۔
پروفیسر ہارون احمد نے بتایا کہ اس قسم کے ڈپریشن میں مریض خود کو تنہا محسوس کرتا ہے اور اپنی روزمرہ کی زندگی میں دلچسپی لینا چھوڑ دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مسائل کورونا وبا سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ اب ذہنی صحت کی اہمی سے آگاہ ہیں، اب وہ اپنے مرض کو چھپانے کے بجائے ڈاکٹرز کا رخ کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں کئی سالوں سے اب بات پر زور دے رہا ہوں کہ اپنی ذہنی بیماریوں کو چھپانے کے بجائے ان کا علاج کرانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں کم اہمیت دیا جانے والا یہ مسئلہ ہی سب سے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔