وزارت صحت کے حکام کے مطابق پاکستان 6 ماہ کے اندر کورونا ویکسین حاصل کرنے کے لیے پرامید ہے۔
ڈان اخبار کے مطابق منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز کے ایک افسر نے بتایا کہ پاکستان آکسفورڈ یونیورسٹی کے ساتھ ویکسین کی تیاری میں تعاون کر رہا تھا مگر یونیورسٹی نے اس کے پیٹنٹ بھارت کو فروخت کر دیے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت سب سے پہلے اپنی ایک ارب سے زائد آبادی کے لیے ویکسین بنائے گا، اس کے بعد وہ بیرون ملک فروخت کرے گا۔ خوش قسمتی سے پاکستان نے ویکسین کی تیاری کے لیے چین کے ساتھ اشتراک کر لیا تھا جس کی وجہ سے ویکسین کے تیسرے فیز کے ٹرائل پاکستان میں ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک کے ٹرائل میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ویکسین کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتی ہے، اگلے 6 ماہ میں اس کے تیار ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر کے خدشات حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں، پنجاب میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 6 ہفتے تک 2 فیصد سے کم رہنے کے بعد اسے عبور کر گئی ہے۔
لاہور ایک مرتبہ پھر پنجاب کا سب سے متاثرہ شہر کے طور پر سامنے آ رہا ہے، این سی او سی کے چیئرمین اسد عمر نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ کراچی، اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں وبا کے دوران مثبت کیسز کی زیادہ سے زیادہ شرح 23 فیصد جبکہ کم سے کم 1.7 فیصد رہی ہے۔
اسد عمر نے خبردار کیا کہ پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح صرف 3 ہفتوں میں 6 سے 23 فیصد تک پہنچ گئی تھی اس لیے عوام کو سمجھنا چاہیے کہ وائرس آغاز میں سست رفتاری سے اور بعد ازاں بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپ میں صرف 10 افراد کو اکٹھا بیٹھنے کی اجازت تھی جسے کم کر کے اب 6 افراد تک محدود کر دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا کہ سردیوں میں عموماً وائرس سے پیدا ہونے والی بیماریاں بڑھ جاتی ہیں اس لیے کورونا کیسز میں اضافے کا خدشہ حقیقی ہے۔