پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء اور سندھ کے وزیرتعلیم سعید غنی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرریلوے شیخ رشید کو مولانا عادل قتل کیس میں شامل تفتیش کیا جائے۔
سعید غنی کے مطابق شیخ رشید نے کہا تھا کہ اپوزیشن کے جلسوں میں کورونا پھیل سکتا ہے اور دہشت گردی بھی ہو سکتی ہے، ان کے بیان کے بعد مولانا عادل کا قتل ہوا ہے اس لیے انہیں بھی تفتیش میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے مولانا عادل کو سیکیورٹی نہ دینے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا ملبہ سپریم کورٹ پر ڈال دیا، ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کے پاس اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کو سیکیورٹی دے سکیں، اس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ رکاوٹ ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ سیکیورٹی دینے کے لیےعدالتی حکم پر کمیٹی بنائی گئی مگر اس میں مختلف اداروں کے درمیان کسی بھی شخص کو سیکیورٹی دینے کے متعلق اختلاف رہتا ہے، اگر کمیٹی نہ ہوتی تو ایک گھنٹے میں مولانا عادل کو سیکیورٹی فراہم کر دی جاتی۔
انہوں نے بتایا کہ ایک مذہبی رہنماء کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی منظوری میں 8 ماہ لگ گئے۔
یاد رہے کہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ دشمن بدامنی پھیلانا چاہتا ہے، اپوزیشن کے جلسوں میں دہشت گردی کا خطرہ ہے، چہلم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں اور اب پھر یہی بات کہہ رہا ہوں۔