حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو جلسے کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں کیا گیا ہے، حکومت حزب اختلاف کو کورونا سے متعلق ایس او پیز پر عمل کرنے کو کہا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے خیال میں اپوزیشن عوام کو باہر نہیں نکال سکے گی اور خود بے نقاب ہو جائے گی۔
اجلاس میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کو اپوزیشن کی کرپشن بچاؤ مہم سے دلچسپی نہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سیاسی اشرافیہ کے مفادات کی تحریک ہے۔
پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ پنجاب کے ضلع کوجرانوالہ میں 16اکتوبر کو ہوگا۔ تاہم ضلعی انتظامیہ نے جلسے کے لیے اجازت نامہ جاری نہیں کیا ہے۔
اپوزیشن نے 20 ستمبر کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں فیصلہ کیا تھا کہ اکتوبر اور نومبر میں صوبائی دارالحکومتوں سمیت بڑے شہروں میں جلسے کیے جائیں گے جب کہ دسمبر میں ملک گیر ریلیاں اور مظاہرے ہوں گے۔
اس سے قبل رانا ثنااللہ کہہ چکے ہیں کہ جب قیادت کو صحیح لگے گا تو استعفے بھی دیئے جائیں گے۔ پی ڈی ایم کے جلسے سے مولانا فضل الرحمان ،مریم نواز اور بلاول بھٹو خطاب کریں گے۔ اگر حکومت نے کریک ڈاؤن کیا تو ہمارا بیانیہ سچ ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ 16اکتوبرکو نااہل حکومت کے خلاف ریفرنڈم ہوگا لیکن اس سے پہلے ہی سیاسی کارکنوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔