برطانوی شہزادے پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے لڑکیوں کا عالمی دن منانے کے لیے ملالہ یوسفزئی کے ساتھ ویڈیو کال پر بات چیت کی۔
دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق برطانوی شاہی جوڑے نے کم عمر نوبل انعام یافتہ پاکستانی سے لڑکیوں کو درپیش مسائل پر بات کی اور ان کے حل پر زور دیا۔
ملالہ یوسفزئی نے برطانوی شاہی جوڑے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد بچیوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر اسکول جانے کی اجازت نہیں ملتی۔
میگھن مارکل کا کہنا تھا کہ جب لڑکیوں کو تعلیم تک رسائی دی جاتی ہے تو یہ ایک بڑے پیمانے پر معاشرے کی ترقی شمار ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنا ان بچیوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کی بھی حق تلفی ہے۔
اقوام متحدہ کی عالمی مسائل پر بننے والی فلم میں ملالہ یوسف زئی بھی شامل
میگھن کا کہنا تھا کہ مجھے بہت پہلے سے اندازہ تھا کہ خواتین کو بھی اس ٹیبل پر بیٹھنے کی جگہ ملنی چاہیے اور پالیسی بنانے والوں کے ساتھ اپنی آواز ملانے کی اجازت دی جائے۔ حتیٰ کہ قانون ساز اداروں میں بھی عورتوں کو ان کا مقام دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایک عورت کو تعلیم تک رسائی نا دینے کی وجہ سے ہم بہت کچھ داؤ پر لگا چکے ہوتے ہیں۔
پرنس ہیری کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کو تعلیم اور نوکریوں کے مواقع دینا کسی بھی ملک کے لیے معاشی دروازے کھولنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ ایک تعلیم یافتہ عورت کسی بھی معاشرے کی ترقی اور حوشحالی میں مرد کے شانہ بشانہ کام کر سکتی ہے۔
میگھن مارکل اور پرنس ہیری نے موضوع سے ہٹ کر اپنی ذاتی زندگی پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ مہینوں میں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کافی وقت گزارنے کا موقع ملا۔
انہوں نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اپنے بیٹے کے پہلے قدم سے لے اس کے چلنے تک اس کے ساتھ وقت گزارا۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا نہیں ہوتا تو ہم زیادہ سفر کرتے یا کام کرتے لیکن ان مہینوں میں ہم نے اپنے بیٹے آرچی کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا۔
یاد رہے 15 سال کی عمر میں لڑکیوں کے تعلیم کے حق میں آواز بلند کرنے والی ملالہ یوسفزئی نے دنیا کی کم عمر نوبل انعام یافتہ پاکستانی کا اعزاز اپنے نام کیا ہے۔
انہیں لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں بولنے کے جرم میں دہشت گردی کے حملے کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔ دوسری جانب میگھن مارکل بھی کم عمری سے خواتین کے حقوق کی آواز بنتی رہی ہیں۔
11 سال کی عمر میں میگھن مارکل نے ایک ٹی وی کمرشل کے خلاف آواز اٹھائی تھی جس کے بعد کمپنی نے اپنا کمرشل بدل دیا تھا۔
پراکٹر اینڈ گیمبل نامی کمپنی نے اپنے ایک ٹی وی اشتہار میں برتن دھونے والے صابن کو صرف عورت سے منسوب کیا تھا۔ میگھن مارکل کی جانب سے احتجاجی خط موصول ہونے کے بعد کمپنی نے اشتہار بدل دیا تھا۔