کابینہ اجلاس میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ عمران خان اور وزیروں کو گندم پرغلط اعدادوشمار پیش کیے گئے تھے جس کی وجہ سے بحران پیدا ہوا۔
ذرائع کے مطابق گندم کی پیداوار اور متوقع کمی کے متعلق غلط فگرز پیش کیے گئے۔غلط بریفنگ دے کر حکومت سے غلط فیصلے کرائے گئے۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ گندم منگوانے میں بھی جان بوجھ کر تاخیر کی گئی جس سے بحران مزید گہرا ہوا۔
ذرائع کے مطابق گندم، کپاس اور چینی کے معاملے میں بھی بحران کی وجوہات اسی قسم کی تھی، غلط فیصلوں کے باعث تینوں اہم فصلوں کی پیداوار بری طرح گر گئی۔
کپاس کی پیداوار بارشوں سے متاثر ہوئی
پاکستان کو پہلے ہی ہر سال کپاس امپورٹ کرنا پڑتی ہے، اس سال بارشوں کی وجہ سے کپاس کی پیداوار میں مزید کمی کا امکان ہے۔ کپاس کے لیے جو ٹارگٹ رکھا گیا تھا وہ پورا نہیں ہو سکے گا۔
کابینہ اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس سال کپاس کی 10 لاکھ گانٹھیں کم ہوں گی۔ سندھ میں 5 لاکھ کاٹن بیلز کم پیدا ہوں گی۔
کابینہ ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں وزیروں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں گندم پر غلط انفارمیشن دی گئیں۔
اسد عمر نے اپنی حکومت کو چارج شیٹ کر دیا
وفاقی وزیر اسد عمر نے کابینہ اجلاس میں اپنی ہی حکومت کو چارج شیٹ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے مہنگائی کا ذمہ دار اپنی ہی حکومت کو قرار دے دیا۔
اسد عمر نے کابینہ اجلاس میں اپنی ہی حکومت کی دو بڑی غلطیاں گنوا دیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم حکومت میں آئے چینی کی قیت 55 روپے اور آج 96 روپے ہو چکی ہے۔
اسد عمرنے کابینہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے عام آدمی پر مہنگائی کا بڑا بوجھ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گندم کی قمیت میں 53 فیصد مہنگائی ہمارے دور میں ہوئی۔
وفاقی وزیر خوراک فخر امام نے کابینہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس سال 18 لاکھ ٹن گندم کم پیدا ہوئی، حکومت کو کمی پورا کرنے کے لیے امپورٹ کرنی پڑی۔
ذرائع کے مطابق فخر امام نے بتایا کہ گندم اب روس سے منگوائی جا رہی ہے۔ روس سے 20 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم منگوائی جارہی ہے۔ اگلی فصل بہتر لینی ہے تو کسانوں کو بہتر قیمت دینی ہو گی۔
ذرائع کے مطابق کابینہ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ابھی سے گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ کیا جائے۔