لاہور: موٹروے ریپ کیس کا مرکزی ملزم عابد فیصل آباد سے گرفتار ہوگیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد کو فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے مرکزی ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
ملزم عابد کو گرفتار کرکے لاہور منتقل کیا جارہا ہے جہاں اس کا دوبارہ ڈی این اے کیا جائے گا۔
ملزم کو کیسے پکڑا گیا؟
اس حوالے سے میڈیا میں دو مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔
ایک خبر کے مطابق عابد کی گرفتاری کے لیے ایک مربوط منصوبہ بنایا گیا جس میں اس کی اہلیہ کو فون مہیا کیا گیا تاکہ وہ ملزم سے رابطہ کر سکے۔
ملزم کی اہلیہ نے اپنا نیا نمبر تمام رشتہ داروں کو بتایا تاکہ کسی ذریعے یہ عابد ملہی تک پہنچ جائے کیونکہ اس نے اپنا نمبر مستقل بند رکھا ہوا تھا۔
چند روز بعد عابد نے اپنی بیوی کو ایک نئے نمبر سے فون کیا اور گفتگو کرنے کے بعد اسے بھی بند کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی روز تک وہ یہی کرتا رہا اور جانچتا رہا کہ کہیں پولیس اس کی اہلیہ کے ذریعے اس تک پہنچنے کی کوشش تو نہیں کر رہی۔
آخرکار جب اسے یقین آ گیا کہ فون محفوظ ہے تو اس نے پنی اہلیہ کو فون پر بتایا کہ وہ اس سے ملنے فیصل آباد آئے گا جس پر ملزم کی بیوی کو بھی فیصل آباد پہنچا دیا گیا۔
جس جگہ میاں بیوی کی ملاقات طے ہوئی تھی وہاں سادہ لباس میں اہلکار تعینات کیے گئے اور جب ملزم عابد اپنی اہلیہ کو ملنے ایا تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔
میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی دوسری کہانی کے مطابق عابد ملہی مانگا منڈی کے قریب اپنے جرائم پیشہ دوستوں کے ساتھ موجود تھا جہاں پولیس نے اطلاع ملنے پر چھاپہ مارا اور اسے گرفتار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق اس نے گرفتاری کے وقت کوئی مزاحمت نہیں کی۔
اس سے قبل 4 مرتبہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عابد کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
ملزم کی گرفتاری میں پنجاب پولیس کی دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی معاونت کی اور سائنٹفک طریقے بھی استعمال کیے گئے۔
اس کیس کا دوسرا ملزم شفقت پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے، دونوں ملزمان نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر ڈکیتی کے بعد خاتون سے اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی جنسی زیادتی کی تھی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ عابد ملہی گرفتار ہو گیا ہے اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔