خلائی آمدورفت پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ خلا میں گردش کرتا ایک مصنوعی سیارہ اور راکٹ کے ایک دوسرے کے قریب سے ٹکرانے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق 10 سالوں میں ایسا واقعہ پہلی بار رونما ہو گا اور ان کے ٹکڑے خلا میں موجود دیگر اشیاء کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
خلائی ماہرین کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سوویت یونین کا خلا میں بھیجا گیا ایک ناکارہ سیٹلائٹ اور چینی راکٹ خلا میں آوارہ گھومنے کے دوران ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خلا میں ناکارہ اشیا کے ایک دوسرے کے قریب سے گزرنے یا ٹکرانے کا ہمیشہ امکان رہتا ہے۔
خلائی اشیاء پر نظر رکھنے والی ایک کمپنی لیولیب کے مطابق ان اشیا کا ایک دوسرے سے ٹکرانے کا امکان 10 فیصد ہے۔
کیلیفورنیا میں بنائی گئی کمپنی لیولیب راڈار کی مدد سے خلا میں حرکت کرتی ناکارہ اشیا پر نظر رکھتی ہے۔
لیو لیب کے سربراہ ڈینیئل کیپرلی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ہفتے میں کئی مرتبہ ہمیں خلا میں مردہ اجسام حرکت کرتے دکھائی دیتے ہیں جو ایک دوسرے سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر خلا میں گھومتے رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری کمپنی کی جانب سے جاری ان معلومات کا مقصد عوام کو ان خاص مواقع سے آگاہ کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اجسام کے ایک دوسرے سے ٹکرانے سے ملبہ خلا میں بکھر سکتا ہے۔
آسٹروفزکس کے ایک ادارے ہارورڈ سمتھ سونین سنٹر کے ایک ماہر فلکیات کا کہنا تھا کہ سوویت یونین کی جانب سے 1989 میں خلا میں بھیجا گیا سیٹلائٹ سمت شناسی کا کام کر رہا تھا۔
یہ سیٹیلائٹ 55 فٹ لمبا اور 2000 پاونڈ وزنی تھا۔ دوسری جانب چین نے 2009 میں 20 فٹ لمبا راکٹ خلا میں بھیجا تھا۔
دونوں اشیا اب ناکارہ ہو کر کام کرنا چھوڑ چکی ہیں اور ان ممالک کے زیراستعمال نہیں ہیں۔
آسٹن میں یونیورسٹی آف ٹیکساس کے ایک ماہر فلکیات موریبا جا کا کہنا ہے کہ یہ راکٹ اور سیٹیلائٹ ایک دوسرے سے 72 میٹر کے فاصلے سے گزریں گے، ان کے ٹکرانے کا امکان بہرحال موجود رہے گا۔
خلائی آمدورفت پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ راکٹ اور سیٹیلائٹ آپس میں ٹکراتے ہیں تو یہ گزشتہ 10 سالوں میں خلائی اشیاء کے ٹکرانے کا پہلا واقعہ ہوگا جب کہ ماہرین کو امید ہے کہ یہ ایک دوسرے سے ٹکرائے بغیر گزر جائیں گے۔