فرانس کے شہر پیرس میں استاد کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں، اس سلسلے میں 11 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق تاریخ پڑھانے والے 47 سالہ استاد سیموئیل پیٹی کو اسکول کے باہر قتل کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق استاد کو قتل کرنے والے 18 سالہ چیچن نژاد عبداللہ انزورو کو پولیس نے حملے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
رواں ماہ کے آغاز میں سیموئیل پیٹی نے کلاس کے دوران اپنے طلبا کو چارلی ایبڈو میگزین میں شائع ہونے والے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے دکھائے تھے اور انہیں آزادی اظہار رائے کے بارے میں بتانے کی کوشش کی تھی۔
استاد کے اس عمل سے کئی مسلمان والدین کو شدید غم و غصے میں مبتلا کیا تھا، والدین نے اسکول انتظامیہ سے استاد کے فعل کے بارے میں شکایت بھی درج کرائی تھی۔
والدین کا کہنا تھا کہ کلاس میں بچوں کو نبی پاک کے خاکے دکھانا توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے۔
حکومت کی جانب سے استاد کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ قتل فرانسیسی اقدار کے دل پر ایک حملہ ہے۔
فرانسیس صدر ایمانوئیل میکران کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بدھ کے روز پوری قوم کی جانب سے استاد کو خراج تحسین پیش کرنے کی تقریب منقعد کی جائے گی۔
اس سے قبل فرانس کے وزیر تعلیم جین مائیکل بلینکویر سمیت کئی وزرا نے یادگاری تقریب میں شرکت کی اور استاد کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیر اعظم جین کاسٹیکس کا کہنا ہے کہ حکومت اساتذہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ قتل سے قبل استاد سیمیوئیل پیٹی کے خلاف سوشل میڈیا پر باقاعدہ تحریک بھی چلائی گئی۔
فرانس میں سر قلم کر کے قتل کیے جانے والے استاد کے قتل کے خلاف دنیا بھر سے تعزیتی پیغام سامنے آرہے ہیں۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت فرانسیسی حکومت اور اسکول کے طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں، ہمارا مطالبہ دنیا کے ہر مذہب کا احترام ہے اور سب مذاہب کے ماننے والوں کو چاہیے کہ وہ دوسرے مذاہب احترام کریں اور نفرت انگیز مواد پھیلانے سے گریز کریں۔
یاد رہے اس سے قبل فرانس کے صدر اسلامی شدت پسندی کو فرانس سے ختم کرنے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔