سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے اپنے وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ ان کی کئی اہم سیاسی لوگوں سے بات ہوئی ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف نے ملٹری کمانڈ پر تنقید کر کے عمران خان کو فائدہ پہنچایا ہے۔ اب اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی رستہ نہیں رہا کہ وہ پوری طرح وزیراعظم کی حمایت پر کمربستہ ہو جائیں۔
نون لیگ میں بغاوت کا خدشہ
ان کا کہنا ہے کہ یہ خدشہ بھی پیدا ہو گیا تھا کہ اگر نوازشریف نے اپنا بیانیہ جاری رکھا تو ان کی پارٹی کے لوگ جلسوں میں جانے سے احتراز کرنے لگیں گے۔
انہوں نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اب یا تو مسلم لیگ ن کے لوگ ٹی وی ٹاک شوز میں جانا بند کر دیں گے یا پھر وہ انڈرگراؤنڈ ہو جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو نوازشریف کو پیغام پہنچے گا کہ پارٹی میں بغاوت کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ خواجہ آصف جیسے شخص نے ایک انٹرویو دیا ہے جس میں وہ نوازشریف کا بیانیہ اپنانے کے لیے تیار نہیں تھے، وہ سوالات کے ادھر ادھر جواب دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ میں مریم نواز کی تقریر سے بھی لگ رہا تھا کہ وہ ذہنی طور پر ایسی تقریر کے لیے تیار نہیں تھیں، ان کا خطاب بھی بکھرا بکھرا تھا جیسے انہیں سمجھ نہیں آ رہی ہو کہ کیا کہیں۔ کراچی میں ان کی تقریر میں پھر سے وہی انداز تھا جو مریم نواز کا خاصہ ہے، اس میں یکسوئی بھی تھی اور جوش و جذبہ بھی تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ عمران خان بھی دل ہی دل میں خوش ہو رہے ہوں گے کہ اپوزیشن رہنماؤں سے ملٹری کمانڈ کی جو ملاقاتیں ہو رہی تھیں وہ اب بند ہو گئی ہیں۔
سینیئر صحافی کے مطابق گوجرانوالہ میں نوازشریف کی تقریر پر نون لیگ لوگ گھبرا گئے تھے اور وہیں انہوں نے آپس میں بات کی تھی کہ اب پارٹی کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔
فوج کیا سوچ رہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ آرمی کمانڈ کیا سوچ رہی ہے، میری معلومات یہی ہیں کہ ابھی فوج ان کے مزید جلسوں کو دیکھنا چاہ رہی ہے کہ ان میں کیا گفتگو ہوتی ہے، اس کے بعد کوئی ایکشن لیا جائے گا۔
مریم نواز نے لیفٹننٹ جنرلز کو سیلیوٹ کی بات کیوں نہیں کی؟
رؤف کلاسرا نے ایک اہم پہلو کی جانب نشاندہی کی کہ مریم نواز نے اپنی تقریر میں فوج کی تعریف کی مگر انہوں نے کہا کہ وہ کیپٹن، میجر، کرنل اور میجر جنرل کو سیلیوٹ پیش کرتی ہیں، وہ اس سے آگے نہیں گئیں اور لیفٹیننٹ جنرلز کو سیلیوٹ کرنے کی بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے آج کی تقریر میں واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے والد کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہیں، انہوں نے نام لیے بغیر آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیا۔
عمران خان کا خواجہ آصف کے متعلق اعتراف
رؤف کلاسرا نے کہا کہ اپوزیشن کے لوگ اب خواجہ آصف کے متعلق عمران خان کے اعتراف کو استعمال کریں گے کیونکہ اس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ آرمی چیف کے ٹیلیفون کے بعد خواجہ آصف انتخاب جیت گئے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کل کی تقریر میں آرمی چیف اور عمران خان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی ہمارے دل میں بہت احترام ہے، انہوں نے واپسی کے رستے کھلے رکھے ہیں اور عمران خان تک اپنا فوکس رکھا ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق یہ اپوزیشن کی حکمت عملی ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کریں جبکہ دیگر لوگ عمران خان پر تنقید کریں۔