سینیٹ میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی ہے، دونوں نے ایک دوسرے کو طعنے دیے ہیں اور ماضی یاد دلاتے رہے ہیں۔
حکومتی سینیٹرز نے اپوزیشن کے جلسوں کو جلسی کا خطاب دے ڈالا جبکہ اپوزیشن اراکین نے طعنے دیے کہ جلسوں کو دیکھ کر حکومت کی ٹانگیں کانپنا شروع ہو گئی ہیں۔
مشاہداللہ خان اور اعظم سواتی میں شدید تلخ کلامی
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہداللہ خان اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم خان سواتی میں ایک بار پھر شدید تلخ کلامی ہوئی ہے، سینیٹ چیئرمین کو الفاظ حذف کرانے پڑے۔
سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ مزار قائد پر بے حیائی سے ناچ گانا کیا گیا اور نعرے لگائے گئے، دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کی حفاظت کریں گے۔
جواب میں سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا سواتی صاحب، آپ کسی کو چور نہ کہا کریں، آپ امریکہ میں داخل نہیں ہو سکتے، آپ کمزورپڑ گئے ہیں اس لیے فوج فوج کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فوج کسی سیاسی جماعت کی نہیں ہوتی، فوج ریاست کی ہوتی ہے، آپ لاغر ہو چکے ہیں، اپنی ٹانگوں پر نہیں کھڑے ہیں۔
مشاہد اللہ خان نے طعنہ دیا کہ آدھے سے زیادہ چور تو کابینہ میں بیٹھے ہیں، ابھی تو ان کی انکوائریاں ہونی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ملک سب کا ہے، اس کو اپنی جاگیر نہ سمجھیں، یہ جو قافلہ چلا ہے اسی سے انقلاب آئے گا۔
مشاہد اللہ خان کو اعظم سواتی سرکاری خرچ پر علاج کرانے کا طعنہ دیتے رہے، انہوں نے کہا کہ مشاہد اللہ خان کی بیماری پر 20 ہزار پاؤنڈز خرچ ہوئے۔
مشاہداللہ خان نے پی ٹی آئی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ کراچی میں جو کچھ ہوا میرے لیے کوئی غیر متوقع نہیں تھا، جو کچھ 2 برسوں میں پاکستانی عوام کے ساتھ کیا وہ لاوا پھٹ گیا، مسجد نبوی اور خانہ کعبہ میں بھی”گو نواز گو“ کے نعرے لگائے گئے تھے۔
انہوں نے سوال پوچھا کہ پروڈکشن آرڈر جاری کرنا چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی کا کام ہے یا پھر وزیر اعظم کا؟
اس دوران سینیٹر شیری رحمان نے حکومت کو ان کا 126 دن کا دھرنا یاد کرا دیا، انہوں نے کہا کہ حوصلہ کریں، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔
والدین کی قبر پر کوئی ہلڑ بازی کرتا ہے؟
پی ٹی آئی کے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اپنے والدین کی قبر پر جا کر کوئی ہلڑ بازی کرتا ہے، اس پر سینیٹر روبینہ خالد نے جواب دیا کہ جب تکلیف ہوتی ہے تو انسان ماں باپ کی قبر پر جا کر روتا ہے۔
سینیٹر محسن عزیز نے نون لیگ کو طعنہ دیا کہ آپ نے ٹائی کوٹ پہن کر ووٹ دیا، جنرل باجوہ کی تعیناتی بھی آپ نے کی، بلاول بھٹو نے نواز شریف کو ضیاء الحق کا بیٹا کہا تھا۔
انہوں نے نون لیگ کے اراکین سینیٹ کو مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کی کس جنرل کے ساتھ بنی ہے؟ آپ چاہتے تھے کہ وہ رائیونڈ کے چکر لگائیں۔
انہوں نے پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ پر کوڑے برس رہے تھے تو اس وقت ضیاء الحق کے پہلو میں کون بیٹھا تھا؟
‘پیپلزپارٹی، ن لیگ نے ڈرافٹ لکھ کر این آر او مانگا ہے’
تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے پیپلزپارٹی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر سندھ حکومت کو مبارکباد، انہوں نے حق میزبانی ادا کر دیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے ڈرافٹ لکھ کر بھیجا ہے کہ این آر او دے دو۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں اپوزیشن کی جلسی تھی، جلسہ تو 2011ء میں عمران خان نے کراچی میں کیا تھا، اپوزیشن کے جلسے میں آنے والے لوگ بتیاں دیکھنے آئے تھے ان کی بوتھیاں دیکھنے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کے بعد صرف ایک جمہوری لیڈر آیا ہے اور اس کا نام عمران خان ہے جن کا جینا مرنا پاکستان میں ہے، وہ ایون فیلڈ میں بیٹھ کر تقریریں نہیں کرتے۔
سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ کمرے کا تالا توڑ کر کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا، ضیاء الحق کے دور کی یاد تازہ ہو گئی۔
‘نہ آپ بچیں گے اور نہ ہی آپ کی بیساکھیاں’
جے یو آئی کے سینیٹر عطاالرحمان نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ کیپٹن صفدر سے غلطی ہوئی، مزار پر جا کر نعرے لگائے، یہ حق صرف پی ٹی آئی والوں کو حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو الزام خواجہ آصف پر لگایا گیا وہی الزام جنرل صاحب پر بھی لگایا گیا ہے، کوئی ایسا سویلین ادارہ بتا سکتے ہیں جس کا سربراہ کسی ریٹائرڈ فوجی افسر کو نہ بنایا گیا ہو؟
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس کے بعد آپ بچیں گے نہ ہی آپ کی بیساکھیاں بچیں گی۔