سینئر صحافی اور ٹی وی اینکر رؤف کلاسرا نے اپنے تازہ وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے ساتھ ان کی فون پر طویل بات ہوئی ہے جس میں بہت سے اہم باتوں پر گفتگو ہوئی ہے۔
آرمی چیف کی ایکٹینشن پر ووٹ کیوں ڈالا؟
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ پنجاب سے فوج آتی ہے اس لیے یہاں سے کوئی بھی آواز اٹھے تو اس کی اہمیت ہوتی ہے۔ اس سے قبل ملٹری کمانڈ کے متعلق پنجاب سے کوئی آواز نہیں اٹھتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے جلسے میں محمود اچکزئی اور اختر مینگل نے اپنی تقریروں میں کہا کہ پہلے غدار خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ سے ہوا کرتے تھے اب یہ چلن پنجاب سے بھی شروع ہو گیا ہے۔
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل نوازشریف نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے ووٹ دیا تھا، سوال یہ ہے کہ اب ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے فریقین کے درمیان معاملات اس قدر خراب ہوئے۔
رؤف کلاسرا نے محمد زبیر سے سوالا پوچھا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ پاک فوج کے سربراہ نے انتخابات میں دھاندلی کرائی تو مسلم لیگ ن نے تو چند ماہ قبل ان کی ایکسٹینشن کے لیے ووٹ کیوں ڈالا تھا؟
اس کے جواب میں محمد زبیر نے اعتراف کیا کہ ہم سے غلطی ہوئی تھی، ہمیں ووٹ نہیں دینا چاہیئے تھا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے جو لوگ لندن گئے تھے میں ان میں شامل نہیں تھا، اس لیے نہیں کہہ سکتا کہ یہ فیصلہ کیوں کیا گیا۔
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ ووٹ دینے کے بعد نون لیگ کا اعتماد بڑھ گیا تھا جس کا اظہار ان کی پریس کانفرنسز اور ٹی وی ٹاک شوز میں گفتگو سے ہوتا تھا۔ اس سے یہ تاثر ملتا رہا کہ ان کی کسی نہ کسی سطح پر ڈیل ہوئی تھی۔
آرمی چیف سے دو ملاقاتوں میں کیا بات ہوئی؟
آرمی چیف سے 2 ملاقاتوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں بھیک یا ریلیف مانگنے نہیں گیا تھا، یہ تین چار گھنٹے پر محیط ملاقاتیں تھیں جن میں نواز شریف اور مریم نواز کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنا نکتہ نظر ان کے سامنے رکھا تھا تاہم رؤف کلاسرا نے اپنے ذرائع سے بتایا ہے کہ جب محمد زبیر کی آرمی چیف سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ غیرجانبدار رہیں، کسی ایک جماعت کے ساتھ خود کو منسلک کر دینا ادارے کے لیے بھی ٹھیک نہیں۔
انہوں نے پاک فوج کے سربراہ سے یہ بھی پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں تو جواب میں انہیں اندازہ ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر مریم نواز کے متعلق سیریس تشویش پائی جاتی ہے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ جب محمد زبیر واپس آئے تو یہ پیغام لے کر آئے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ن لیگ کے لیے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں اور کسی قسم کی ڈیل کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد نوازشریف نے علم بغاوت بلند کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ ایک طرح سے ذاتی لڑائی کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔
سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے ذرائع سے اس معاملے کی کھوج نکالنے کی کوشش کی تو امکانی طور پر یہ بات سامنے آئی کہ جب سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے محمد زبیر کی آرمی چیف سے ملاقاتوں کا راز کھولا ہے، اس وقت سے نواز شریف اور مریم نواز کو احساس ہوا کہ ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔
انہوں نے اس امکان کا اظہار کیا کہ شاید نوازشریف آنے والے دنوں میں یہ اعتراف کریں کہ جنرل باجوہ کو ووٹ دے کر غلطی کی تھی، بظاہر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نوازشریف اور مریم نواز کی اب کھلی لڑائی ہو گی۔
اسحاق ڈار کے ٹویٹ کی کہانی
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ عمران خان نے اسحاق ڈار کے والد کی سائیکل کی دکان کا ذکر کیا کہ پنکچر کی دکان سے سفر شروع کرنے والے اسحاق ڈار آج دبئی میں ٹاورز کے مالک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے جواب میں ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے جنرل نیازی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے بزرگوں پر تنقید کی، ساتھ ہی اسد عمر اور محمد زبیر کے والد جنرل عمر کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔
انہوں نے کہا کہ شاید وہ بھول گئے تھے کہ جنرل عمر صرف اسد عمر کے نہیں بلکہ محمد زبیر کے بھی والد ہیں جو مسلم لیگ ن کے ترجمان ہیں۔ بعد میں انہوں نے یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا تھا۔
اس ٹویٹ کے متعلق سوال پر محمد زبیر کا کہنا تھا کہ مجھے یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ میں اپنے والد سے کتنی محبت کرتا ہوں، مجھے اپنے والد کی ملک کے لیے خدمات پر فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنی پارٹی کی بہت سے باتیں ریکارڈ پر کہہ دیتا ہوں اس کے برعکس اسد عمر نے کبھی اپنی جماعت کے دفاع کے علاوہ کچھ نہیں کہا۔
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ انہیں ایک واقعہ معروف اینکر محمد مالک نے سنایا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ مریم نواز کی وزیراعظم ہاؤس میں جو صبح صبح میڈیا سیل کا اکٹھ ہوتا تھا اس میں صرف محمد زبیر ہی تھے جو اختلاف بھی کرتے تھے اور خوشامد نہیں کرتے تھے۔