ترکی کے قونصل خانے میں قتل کیے جانے والے سعودی صحافی جمال خشوگی کی منگیتر نے سعودی ولی عہد پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق جمال خشوگی کی منگیتر کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ سعودی علی عہد محمد بن سلمان نے صحافی کے قتل کے احکامات جاری کیے تھے۔
جمال خشوگی کی منگیتر خدیہ جینگز اور ان کے بنائے گئے ہیومن رائٹس گروپ کی جانب سے سلمان بن محمد سمیت دیگر 20 افراد پر خشوگی قتل کے احکامات جاری کرنے پر مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔
منگل کو واشنگٹن ڈی سی میں ترک شہری خدیجہ جینگز کی جانب سے دائر مقدمے میں جمال خشوگی کی موت کے بعد ہونے والے مالی نقصان کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
جمال خشوگی کے ہیومن رائٹس گروپ، ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صحافی کی موت کے بعد تنظیم کے کاموں میں بھی رکاوٹ ڈالی گئی۔
ڈان کی جانب سے دائر مقدمے میں کہا گیا ہے کہ جمال خشوگی کا قتل ہوا ہے اور اس کے احکامات محمد بن سلمان نے جاری کیے تھے۔
ڈان کے مطابق قتل کا واضح مقصد خشوگی کو امریکہ جا کر عرب دنیا میں جمہوری اصلاحات کے لیے کوششیں کرنے سے روکنا تھا۔
منگل کو خدیجہ جینگز کے وکیل اور ڈان نے ویڈیو کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ مقدمے کا مقصد امریکی عدالت کو یہ بتانا ہے کہ سعودی ولی عہد اس قتل میں ملوث ہیں۔
انہوں نے مطلوبہ دستاویزات حاصل کر کے سچ تک پہنچنے کا مطالبہ بھی کیا۔
خدیجہ جینگز کا اپنے بیان میں کہا تھا کہ جمال خشوگی امریکی عدالت نظام کے معترف تھے، ان کا خیال تھا کہ امریکا میں کچھ بھی ممکن ہے۔
واضح رہے سعودی نژاد امریکی صحافی کو 2018 میں ترکی میں سعودی قونصلیٹ میں قتل کر دیا گیا تھا۔
ہائی پروفائل قتل کے بعد ترکی کی حکومت کی جانب سے فوری اقدامات کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا تھا۔
ترک حکومت نے دوران تحقیقات سعودی حکومت کو صحافی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
سعودی ولی عہد سلمان بن محمد نے قتل کے احکامات جاری کرنے کے الزامات کی نفی کی تھی۔
امریکی اخبار نیویارک کے ساتھ منسلک جمال خشوگی سعودی حکومت پر کڑی تنقید کرتے تھے