وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن ملک دشمنوں سے ملی ہوئی ہے اور دباؤ ڈال کر این آر او لینا چاہتی ہے۔
اے آر وائی کے پروگرام ‘دی رپورٹرز’ میں انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جلسوں کے ذریعے فوج اور عدلیہ پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
اپوزیشن کی بلیک میلنگ اور خوش فہمیاں
عمران خان کا انٹرویو میں کہا تھا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ مل کر دباؤ ڈالیں تاکہ مشرف کی طرح میں بھی این آر او دے دوں۔ پہلے یہ میرے پیچھے لگے ہوئے تھے اور اب عدلیہ اور فوج کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار، شہباز شریف اور نواز شریف کے بیٹے اس لیے لندن بھاگے ہیں کہ ان کے پاس مہنگی جائیدادوں کا حساب نہیں ہے۔ برٹش ورجن نے خط کے جواب میں واضح طور پر کہا ہے کہ برطانیہ میں ان کے چاروں فلیٹس کی مالک مریم نواز ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن والے پہلے یہ سمجھ رہے تھے کہ پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا یا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 200 سے 250 کا ہو جاتا، بعد میں کورونا سے امید لگا بیٹھے کہ اس کی وجہ سے پاکستان بیٹھ جائے گا۔
وزیراعظم کے مطابق اپوزیشن نے این آر او لینے کی آخری کوشش ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی کے وقت کی، ان کا خیال تھا کہ میں گھٹنے ٹیک دوں گا، جب ایسا نہیں ہوا تو چھپ کر بیٹھے ہوئے باپ بیٹی باہر نکل آئے ہیں۔
‘ہمارے لوگ دشمن سے ملے ہوئے ہیں’
وزیراعظم نے انٹرویو میں اپوزیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بھارت، اسرائیل اور دشمن ممالک کے ساتھ پوری طرح ملے ہوئے ہیں، امریکہ میں بھارتی لابی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اوران کا سربراہ حسین حقانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حسین حقانی کے متعلق آئی بی اور آئی ایس آئی سے رپورٹس آتی رہتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت پاکستان کو 3 ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے، اس لیے وہ فرقہ وارانہ فسادات کی کوشش کر رہا ہے اور ہمارے فوجیوں کو شہید کر رہاہ ے، ہم تین ماہ سے تیار بیٹھے اس کی سازشیں ناکام بنا رہے ہیں۔
‘چور واپس آئے تو قوم کو سڑکوں پر نکالوں گا’
ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ یہ ایسے لوگ ہیں یا پاکستان بچے گا یا پھر یہ بچیں گے، ان سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ چور واپس آئے تو پوری قوم کو لے کر سڑکوں پر نکلوں گا۔
انہوں نے کہا کہ معیشت ٹھیک ہو رہی ہے، آہستہ آہستہ دیگر مسائل پر بھی قابو پا لیں گے۔ لاہور میں راوی اور کراچی میں بنڈل آئی لینڈ میں دو شہر بنائیں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کبھی بھی بنڈل آئی لینڈ کا منصوبہ نہیں بنا سکتی کیونکہ بیرون ملک پاکستانی ان پر اعتماد نہیں کرتے۔
‘نوازشریف کی واپسی کے لیے بورس جانسن سے بات کروں گا’
عمران خان نے انٹرویو میں کہا کہ اگر نوازشریف کی واپسی کے لیے مجھے برطانیہ جانا پڑا تو میں اس کے لئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے بات کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے ہمیشہ نوازشریف کی طرفداری کی ہے، اب وقت ہے کہ انہیں واپس لا کر جیل میں ڈالیں۔
میڈیا پر پابندیاں
میڈیا کے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ آزاد میڈیا سے وہ ڈرتا ہے جس نے کچھ چھپانا ہو یا پھر آمر اس پر پابندیاں لگاتا ہے، تنقید سے ہماری سمت درست ہو گی اور ہم کارکردگی بہتر بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے جعلی خبروں اور پراپیگنڈہ سے مسئلہ رہا ہے، باہر کا میڈیا واچ ڈاگ کا کام کرتا ہے لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
چینی اور آٹے کی مہنگائی
وزیراعظم نے کہا کہ گندم پر چینی پر پیدا ہونے والی صورتحال پر مجھے بہت تکلیف ہے، ان کی کمی کا اندازہ لگانے والے ادارے کام نہیں کر رہے، ہم اب انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سپارکو کی مدد لے رہے ہیں۔
عمران خان نے مزید کہا کہ چینی کا کارٹل موجودہے، اب قوم دیکھے گی کہ ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے
انہوں نے کہا کہ شوگر ملز نے کہا کہ ہمارے پاس چینی ہے، لیکن جولائی میں معلوم ہوا کہ چینی پوری نہیں تھی اور پھر ہمیں برآمد کرنا پڑی جس کی وجہ سے چینی مہنگی ہوئی۔
‘این آر او کے علاوہ اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے تیار ہوں’
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ این آر او دینے کے علاوہ اپوزیشن سے ہر معاملے میں مذاکرات کے لیے تیار ہیں کیونکہ یہ جمہوریت کا حصہ ہے۔
انہوں نے اپوزیشن کو کہا کہ وہ سڑکوں پر نکلنا چاہتی ہے تو یہ شوق ضرور پورا کرے۔
عمران خان نے کہا کہ اگر انتخابات ہوئے تو میں خوش ہوں گا کیونکہ ہم مزید اکثریت لے کر واپس آؤں گا۔