وفاقی کابینہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غیرقانونی مواد ہٹانے کے لیے نئے رولز کی منظوری دے دی ہے جن کا نوٹی فکیشن چند روز میں جاری کر دیا جائے گا۔
نئے سوشل میڈیا رولز کے اہم نکات
کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا رولز کی کابینہ نے منظوری دی تھی مگر اس پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ان پر نظرثانی کے لیے ایک کمیٹی بنا دی تھی۔
گزشتہ رولز میں سب سے زیادہ ہدف تنقید نیشنل کوآرڈینیٹر کی تعیناتی کا معاملہ تھا جس نے سوشل میڈیا پر موجود مواد کی نگرانی بھی کرنا تھی اور کمپنیوں اور حکومت کے درمیان رابطے کا کام بھی کرنا تھا۔
اب ترمیم شدہ رولز میں یہ عہدہ ختم کر کے شکایات کا معاملہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ آزادی اظہار کو تحفظ بھی دیا گیا ہے اور صرف اس مواد پر اتھارٹی ایکشن لے گی جو اسلام مخالف، پاکستان کی سالمیت کے خلاف اور دفاع و سلامتی کو متاثر کرتا ہو۔
اسی طرح غلط معلومات کی تشہیر کی صورت میں بھی پی ٹی اے کارروائی کرنے کی مجاز ہو گی جبکہ غیراخلاقی مواد کو بلاک کرنے یا ہٹانے کا اختیار بھی اس کے پاس ہو گا۔
سوشل میڈیا کمپنیوں کا معاملہ
ترمیم شدہ رولز میں جن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 5 لاکھ سے زیادہ پاکستانی صارفین موجود ہوں گے وہ خود کو پاکستان میں رجسٹرڈ کرانے اور دفاتر کھولنے کی پابند ہوں گی۔
اس سے قبل ان پلیٹ فارمز کو دفاتر کھولنے کے 3 ماہ کا وقت دیا گیا تھا جسے اب ترمیم شدہ رولز میں بڑھا کر 9 ماہ کر دیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کمپنیاں 3 ماہ کے اندر پاکستان میں اپنا فوکل پرسن مقرر کرنے کی پابند ہوں گی، اس کا کام پی ٹی اے اور کمپنی کے درمیان رابطہ کرنا ہو گا۔
ترمیم شدہ رولز میں مزید کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ڈیڑھ سال کے اندر پاکستان میں اپنے ڈیٹابیس سرور قائم کرنے ہوں گے، یہ کمپنیاں تحقیقات کے لیے دستیاب معلومات پی ٹی اے کو مہیا کرنے کی پابند ہوں گی۔
نئے رولز کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیاں اپنی ویب سائیٹ پر شکایات کے لیے ایک افسر کا نام شائع کریں گی اور اس شکایت کے ازالے کے لیے میکنزم تیار کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ یہ کمپنیاں ایسا کوئی مواد براہ راست نشر یا اپ لوڈ نہیں کرنے دیں گے جس میں دہشت گردی یا شدت پسندی کی جانب اکسایا گیا ہو اور جو نفرت انگیز، فحش ، تشدد پر اکسانے یا پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہو۔
غیرقانونی مواد کے خلاف کارروائی کیسے ہو گی؟
نئے روزل کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود مواد سے متاثر شخص پی ٹی اے میں شکایت درج کرا سکے گا، حکومت پاکستان کا کوئی محکمہ، وزارت یا ڈویژن بھی یہ شکایت کر سکیں گے۔۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی شکایت کنندہ کی شناخت خفیہ رکھنے کی پابند ہو گی۔
پی ٹی اے یہ اختیار بھی ہو گا کہ اگر وہ کسی مواد کو غیرقانونی سمجھے تو اسے ہٹانے کی ہدایات جاری کر سکے۔ شکایت کی صورت میں 30 روز کے اندر اتھارٹی فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی۔
اتھارٹی کے فیصلے کے خلاف 30 روز کے اندر نظر ثانی کی اپیل ہائی کورٹ میں دائر کی جا سکے گی۔
اتھارٹی نئے سوشل میڈیا رولز کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے مہم بھی چلائے گی اس کے علاوہ تمام ریجنل اور زونل دفاتر سمیت ٹول فری ہیلپ لائن کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔