کراچی: جیو نیوز کے سینئر رپورٹر علی عمران سید لاپتا ہو گئے۔
ان کی اہلیہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ علی عمران نے جاتے وقت آدھے گھنٹے میں واپس آنے کا کہا تھا لیکن اب 14 گھنٹے گزر چکے ہیں اور نا کوئی پتا نہیں چل رہا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر قریبی بیکری تک گئے تھے جس کے بعد گھر واپس نہیں آئے۔
لاپتا صحافی کے بھائی طالب رضوی کے مطابق وہ گھر سے 7 اور 8 بجے کے درمیان نکلے تھے، جب کافی دیر تک ان کی واپسی نہیں ہوئی تو گھر والوں نے ان کی تلاش شروع کر دی۔
انہوں نے بتایا کہ علی عمران اپنا موبائل بھی گھر پر ہی چھوڑ گئے تھے اور ان کی گاڑی بھی گھر پر موجود ہے۔
علی عمران سید کے اہلخانہ نے کراچی پولیس چیف اور ڈی آئی جی ایسٹ کو آگاہ کر دیا ہے اور سچل تھانے میں درخواست بھی جمع کرا دی گئی ہے۔
تھانے کے ایس ایچ او ہارون کورائی کے مطابق انہیں علی عمران کی گمشدگی کی درخواست موصول ہو گئی ہے، پولیس جائے وقوعہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔۔
انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ کا معائنہ بھی کیا جا رہا ہے۔
ایس ایچ او کے مطابق اس علاقے میں ایسا واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا، شواہد اکٹھے کرکے کیس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سربراہ سے بات کی ہے۔
سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ان کی جلد بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے بھی علی عمران سید کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔