دنیا بھر میں خواتین کی جانب سے شروع ہونے والی می ٹو مہم کو شروع ہوئے 3 برس گزر گئے ہیں، اس میں خواتین جنسی طور پر ہراساں کیے جانے والے وہ واقعات بتاتی ہیں جو ماضی میں پیش آئے اور جنہیں بیان کرنے کی پہلے انہوں نے جرات نہیں کی تھی۔
مختلف ممالک سے ہوتی ہوئی یہ مہم اب ایران تک جا پہنچی ہے جو ایک سخت گیر مذہبی ریاست ہے اور جہاں اگست کے اواخر سے اب تک 100 کے قریب مردوں کے متعلق سوشل میڈیا پر الزامات سامنے آئے ہیں۔
جن مردوں پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ان میں ای کامرس کی بہت بڑی کمپنی کا سابق مینیجر، ایک معروف سوشیالوجی پروفیسر اور مقبول بک سٹور کا مالک بھی شامل ہے۔
تاہم ان سب سے زیادہ بڑی شخصیت ایک 80 سالہ فنکار آیدین آغداشلو ہے جو عالمی سطح پر معروف ہے اور جس کے حکومتی اشرافیہ کے ساتھ قریبی تعلق ہے۔
نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے 13 خواتین نے 30 سال کے عرصے پر محیط جنسی ہراسگی کا الزام عائد کیا ہے۔
ان میں سے زیادہ تر ان کی سابق شاگرد ہیں جبکہ کچھ ایسی صحافی خواتین ہیں جو فن اور ثقافت کے متعلق لکھتی ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران میں جنسی معاملات پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے جبکہ زیادتی کا شکار بننے والی خاتون کو عموماً ملزم قرار دے دیا جاتا ہے۔
ہی وجہ ہے کہ خواتین کا می ٹو مہم میں شامل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس معاشرے میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔
آیدین آغداشلو نے ان الزامات کے جواب میں انٹرویو دینے سے انکار کیا ہے مگر انہوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ الزامات جھوٹے اور گھڑے ہوئے ہیں۔
اخبار کو لکھے گئے اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ لوگوں کے ساتھ احترام سے پیش آیا ہوں، میں نے کبھی کسی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔
انہوں نے یہ بھی لکھا کہ میں مکمل انسان نہیں ہوں اس لیے اگر میرا رویہ کسی کے لیے غصے یا پریشانی کا باعث بنا ہے تو میں اس کے لیے معافی چاہتا ہوں۔
مردوں کی حاکمیت پر قائم ایرانی معاشرے میں می ٹو مہم کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں، تہران کے پولیس چیف نے 12 اکتوبر کو بتایا کہ بک اسٹور کے مالک نے 300 خواتین کے ساتھ زیادتی کا اعتراف کیا ہے۔۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ 30 خواتین کی جانب سے قانونی شکایت درج کرنے کے جرات مندانہ قدم کے بعد ہی یہ ممکن ہو سکا ہے۔