• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

ایمازون کے نمائندوں کا بھارت کے پارلیمانی پینل کے سامنے پیش ہونے سے انکار

by sohail
اکتوبر 24, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, ٹیکنالوجی, دنیا
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ایمازون کے نمائندوں  نے بھارت میں پرائیویسی بل پر نظرثانی کرنے والے پارلیمنٹری پینل کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

معروف امریکی کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سب ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔

بھارتی حکومت کے پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل پر نظر ثانی کرنے والے  پینل کی سربراہ میناکشی لکھی کا کہنا ہے کہ اگر ایمازون کے نمائندے 28 اکتوبر سے پہلے پیش نہیں ہوئے تو ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

حکام کے مطابق اس بل سے کچھ غیرملکی ٹیکنالوجی  کمپنیوں کو ممکنہ طور پر مسائل ہو سکتے ہیں، یہ بل ان کمپنیوں کے ڈیٹا کو محفوظ کرنے کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ 

پینل کی سربراہ میناکشی لکھی  کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ایمازون کا بھارت میں وسیع کاروبار ہے، لیکن اگر اس کے نمائندے پینل کے سامنے پیش نہیں ہوتے تو ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

میناکشی لکھی کی جانب سے اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ پینل کس قسم کی کارروائی کا مجاز ہے۔

پینل کے ریمارکس پر ایمازون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم پینل کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔

ایمازون کا کہنا ہے کہ ہم اپنی کمپنی کی پوزیشن سے متعلق غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ 

ایمازون کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کورونا کے دوران سفری پابندیوں کے باعث ہمارے ماہرین کی عدم موجودگی کی وجہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہو سکے۔

یاد رہے گزشتہ روزسماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کے نمائندے نے پینل کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے ٹویٹر کے نمائندے کو 28 اکتوبر کو طلب کیا ہے۔

پینل کے ایک اور فرد نے بتایا ہے کہ ڈیجیٹل پے منٹ فرم پےتم اور گوگل کے نمائندے کو 29 اکتوبر کو بلایا گیا ہے۔

پینل کے رکن کا کہنا تھا کہ اگر کسی کمپنی کا نمائندہ طلب کی گئی تاریخ کو پیش نہیں ہوتا تو یہ پارلیمنٹ کے استحقاق کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس صورت میں نمائندوں کو جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

واضح رہے بھارتی حکومت ملک میں کاروبار کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حوالے سے اصول و ضوابط وضح کر رہی ہے، اس حوالے سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کمپنیوں کے مفاد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایسے وقت میں جبکہ بھارت میں روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی جبر کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، پاکستان ان کمپنیوں کو سہولتیں اور آزادی فراہم کر کے اپنے ملک میں بھاری سرمایہ کاری لا سکتا ہے۔

Tags: ایمازونبھارت میں ٹیکنالوجی کمپنیاں
sohail

sohail

Next Post

بالی ووڈ اداکارہ لیونیا لودھ کا مہیش بھٹ پر ہراسانی کا الزام

بحرین میں مردہ قرار دی گئی دو نومولود بچیاں تدفین کے وقت زندہ ہو گئیں

نیب کی تاریخ کی سب سے بڑی پلی بارگین طے پا گئی

چینی کا بحران ایک واٹس ایپ گروپ کے ذریعے پیدا کیا گیا، رؤف کلاسرا کا انکشاف

چیٹ یا گروپ ہمیشہ کے لیے میوٹ، واٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کرا دیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In