• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, اپریل 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

پسند کی شادی پر بیٹی کی مارپیٹ، مسلمان خاندان کو فرانس سے نکال دیا گیا

by sohail
اکتوبر 24, 2020
in تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پیرس: فرانس میں نوجوان لڑکی پر تشدد کرنے والے بوسنیا کے مسلمان خاندان کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بوسنیا سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان نے اپنی بیٹی کو پسند کی شادی کی خواہش کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

گھر کے افراد نے شامی لڑکے سے شادی کی خواہشمند لڑکی کے بال منڈوا کر اسے مار پیٹ کا نشانہ بنایا۔

فرانس کی وزارت داخلہ کی جانب سے بوسنین خاندان کو ڈی پورٹ کرنے کی تصدیق کی گئی۔

وزارت داخلہ کے مطابق فرانس کے مشرقی شہر بیسنکون میں ایک گھر کے پانچ افراد کو لڑکی پر تشدد کرنے کے جرم میں بوسنیا بھیج دیا گیا ہے۔

ہفتے کی صبح فرانس کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ گھر والوں نے لڑکی کو کسی دوسرے مذہب کے لڑکے سے پسند کی شادی کا اظہار کرنے پر مارا۔

وزارت داخلہ کے مطابق متاثرہ لڑکی کو سوشل سروس سینٹر منتقل کر دیا گیاہے کہ بالغ ہونے پر اسے فرانس کی شہریت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ فرانسیسی میڈیا نے اگست میں بوسنین لڑکی پر تشدد کے واقعے کو رپورٹ کیا تھا۔ میڈیا کے مطابق متاثرہ لڑکی عیسائی لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی۔

میڈیا پر خبر رپورٹ ہونے کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے فوری ایکشن لیتے ہوئے گھر کے پانچ افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ یورپ جانے والے مسلمان تارکین وطن کے لیے اپنی نئی نسل کو مغربی ماحول سے بچائے رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

فرانس میں مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا 8.8 فیصد ہے جس کی وجہ سے دیگر یورپی ممالک کے برعکس فرانس سنجیدہ قسم کی اندرونی کشمکش کا شکار ہے، تہذیبی اقدار کا فرق مختلف شکلوں میں سامنے آتا رہتا ہے۔

مسلمان اکثر یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں حجاب اور دیگر ثقافتی علامات کے اظہار سے جبراً روک دیا جاتا ہے جبکہ فرانسیسی شہری مسلمانوں کی بڑھتی تعداد کو اپنی اقدار کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

Tags: فرانس میں مسلمان
sohail

sohail

Next Post

ایمازون کے نمائندوں کا بھارت کے پارلیمانی پینل کے سامنے پیش ہونے سے انکار

بالی ووڈ اداکارہ لیونیا لودھ کا مہیش بھٹ پر ہراسانی کا الزام

بحرین میں مردہ قرار دی گئی دو نومولود بچیاں تدفین کے وقت زندہ ہو گئیں

نیب کی تاریخ کی سب سے بڑی پلی بارگین طے پا گئی

چینی کا بحران ایک واٹس ایپ گروپ کے ذریعے پیدا کیا گیا، رؤف کلاسرا کا انکشاف

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In