سینئر صحافی اور معروف ٹی وی اینکر رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کے غصے میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے، چاہے وہ مریم ہوں، بلاول ہوں یا مولانا فضل الرحمان، ان کی جارحیت میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے، جواب میں حکومت کے رویے میں بھی سختی آتی جا رہی ہے۔
اپنے وی لاگ میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت پر پوری طاقت کے ساتھ حملے کئے، گوجرانوالہ جلسے میں نواز شریف نے آرمی چیف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل باجوہ صاحب یہ سب آپ کا کیا دھرا ہے، الیکشن دھاندلی اور عمران خان کو لانے میں آپ سے سوال کیا جائے گا۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ اپوزیشن کہہ رہی ہے جنوری سے پہلے حکومت کو ہٹا دیں گے جبکہ حکومت اس کے جواب میں کہہ رہی ہے کہ وہ جنوری سے پہلے نواز شریف کو لندن سے پاکستان لے آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں آرمی چیف کے حوالے سے بہت واضح طور پر یہ بات کہہ دی کہ ”جنرل باجوہ کو اپوزیشن سے خفیہ ملاقاتیں نہیں کرنی چاہئے تھیں”
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی یہ بات شاید آرمی چیف کیلئے اضطراب کا باعث ہو کیونکہ آج تک پاکستان کے کسی وزیراعظم نے آرمی چیف کے حوالے سے اس قدر برملا اظہار نہیں کیا۔
رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ میں نے میجر (ر) عامرسے پوچھا کہ آپ کو ماضی میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے جس میں وزیراعظم نے آرمی چیف کی ملاقاتوں کے حوالے سے کھلے عام اپنی رائے کا اظہار کیا ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے ذہن میں ایسی بات نہیں آ رہی جس میں وزیراعظم نے ایسا اسلوب اختیار کیا ہو۔
رؤف کلاسرا کے مطابق آرمی کی طرف سے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں آیا لیکن ایسا لگتا ہوتا ہے کہ ہیٹ محسوس کی جا رہی ہے اور براہ راست جواب دینے کی بجائے شیخ رشید کے ذریعے پیغام دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے ہفتہ کے روز ایک دھمکی دی ہے کہ جھاڑو پھرنے والا ہے، معلوم نہیں ہو سکا کہ انہوں نے دھمکی کس کو دی ہے۔
رؤف کلاسرا نے وضاحت کی کہ جھاڑو پھرنے کی اصطلاح پیر پگاڑا نے استعمال کی تھی اور اس سے مراد یہ ہوتا تھا کہ موجودہ حکومت کا خاتمہ ہونے والا ہے اور اس کی جگہ نئے لوگ آنے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب اگر جھاڑو پھرنے والا ہے اور اس کے نتیجے میں اپوزیشن کے لوگ جیل جانے والے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی حکومت اپوزیشن کے رہنماؤں کو جیل میں ڈال کے دیکھ چکی ہے جو کچھ عرصہ بعد ضمانتیں کرا کر باہر آ گئے ہیں۔
ان کا تجزیہ تھا کہ اگر جھاڑو پھرنے سے مراد حکومت کا خاتمہ ہے تو پھر تحریک انصاف کی حکومت خطرے میں ہے جس کے بارے اپوزیشن پہلے ہی جنوری کا وقت دے چکی ہے۔
رؤف کلاسرا نے سوال اٹھایا کہ اگر جھاڑو پھرنے سے مراد واقعی حکومت کا خاتمہ ہے تو کیا اسٹیبلشمنٹ نئے سیٹ اپ کیلئے تیار بیٹھی ہے کہ اپنے لیے ایک تیسرا دشمن پیدا کر لیا جائے جو شاید زیادہ پاور فل ہو اور آپ پر زیادہ حملہ کرے؟
رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کو دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس تحریک انصاف سے سپورٹ مل رہی ہے لیکناسٹیبلشمنٹ کو محسوس ہو رہا ہے کہ شاید عمران خان اپنا راستہ بدل رہا ہے۔
رؤف کلاسرا نے شیخ رشید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ سب کچھ لپیٹ دیا جائے، مجھے حالات سے دکھائی دے رہا ہے کہ جیسے معاملات بند گلی میں داخل ہو چکے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو بات شیخ رشید کہہ رہے ہیں وہی بات اپوزیشن بھی کہہ رہی ہے، لیکن اگر واقعی جھاڑو پھرتا ہے تو اپوزیشن فائدے میں رہے گی، سب سے زیادہ فائدہ نواز شریف اور مولانافضل الرحمان کو ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ جھاڑو پھرنے سے پیپلزپارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ سندھ میں ان کی دس بارہ سال سے حکومت ہے، عمران خان کو نقصان ہو سکتا ہے کہ ان کی وفاق اور تین صوبوں میں حکومت ہے۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ شیخ رشید کی اس بات سے اتفاق کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں کہ جھاڑو پھرنے سے صرف اپوزیشن کا نقصان ہو گا ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی نیا سسٹم لایا جائے اور اس سسٹم میں عمران خان کو باقی رکھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت کچھ ہے جس سے جلد پردہ اٹھنے والا ہے، اپوزیشن بھی دباؤ بڑھا رہی ہے اور عمران خان بھی دباؤ بڑھا رہے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس دباؤ کا زیادہ اثر کس پر پڑتا ہے۔