• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 8, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

کوئٹہ میں ہونے والی سخت تقاریر، ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟ رؤف کلاسرا کا تجزیہ

by sohail
اکتوبر 25, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے  کہ کوئٹہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے میں دھماکہ خیز باتیں کی گئی ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کا جواب کیسے دیتی ہے۔

نواز شریف کی تقریر کا تجزیہ

رؤف کلاسرا نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ نوازشریف نے گوجرانوالہ سے بھی سخت تقریر کی ہے جس میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو بھی جواب دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل یہ خبریں آ رہی تھیں کہ مسلم لیگ ن کے کئی رہنما نوازشریف کی گوجرانوالہ میں کی گئی تقریر سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اس طرح کا بیانیہ اختیار نہ کریں۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی آج کی تقریر سے واضح ہو گیا کہ وہ کسی رہنما کی بات نہیں سن رہے اور ایک قدم مزید آگے بڑھ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ عمران خان مریم نواز پر بات کرتے ہیں، اس لیے نوازشریف نے علیمہ خان کے متعلق گفتگو کی۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے عمران خان اور ان کی ہمشیرہ کو جیل بھجوانے کی دھمکی دی، انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی کو خصوصی نشانہ بنایا ہے۔

رؤف کلاسرا کے مطابق نوازشریف کی کوشش لگتی ہے کہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کو متنازعہ بنا دیا جائے کیونکہ ان کے متعلق سنا جا رہا ہے کہ وہ اگلے آرمی چیف ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ پچھلے جلسے میں نوازشریف نے یہ تو کہا تھا کہ ایک فوجی افسر جسٹس شوکت صدیقی کے پاس گئے تھے لیکن نام نہیں بتایا تھا۔ آج کے جلسے میں انہوں نے آئی ایس آئی چیف کا نام لے کر کہا کہ انہوں نے جسٹس شوکت صدیقی کو کہا تھا کہ مریم نواز اور نواز شریف کو جیل سے باہر نہ آنے دیں۔

رؤف کلاسرا کے مطابق نواز شریف اپنی کشتیاں جلا چکے ہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ جب تک آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور عمران خان کی ٹرائیکا موجود ہے، ان کے لیے یا مریم نواز کے لیے کوئی سیاست میں گنجائش نہیں نکل سکتی۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور عمران خان معاملات کو مزید بھڑکا رہے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی مختلف فورسز کا کیا ردعمل آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان ایک خطرناک فیز میں ہے، میں نے اپنی رپورٹنگ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے اب کیا آپشن ہیں، کیا وہ شیخ رشید کی زبان میں جھاڑو پھیرتے ہیں اور عمران خان کا کیا بنے گا، یہ سب دیکھنا ہے۔

جلسے میں کون سی خطرناک باتیں کی گئیں؟

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ بلاول اور مریم نے اپنی تقریروں میں لاپتا افراد کو ذکر کیا ہے جس سے اسٹیبلشنٹ میں اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ دونوں نے نام لے کر شیم شیم کے نعرے لگوائے، بلوچستان میں یہ بڑا حساس معاملہ ہے اور انہوں نے اس پہلو پر زور دیا ہے۔

ان کے مطابق خود چینلز کو محسوس ہوا کہ جلسے میں ایسی تقاریر ہو رہی ہیں جس کے بعد انہیں خود پر سنسر شپ عائد کرنی چاہیئے، اسی وجہ سے بعض چینلز نے مریم نواز اور بلاول بھٹو کی تقاریر پر بار بار آواز بند کی جبکہ دیگر نے جلسہ دکھانا ہی بند کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ چینلز کو بھی اندازہ ہو رہا ہے کہ معاملہ حدود سے باہر جا رہا ہے اور خود ریاست کی سالمیت کے لیے یہ باتیں نقصان دہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین تقریریں بہت اہم تھیں جن سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، ان میں اویس نورانی، محمود اچکزئی اور نواز شریف نے بہت سخت گفتگو کی اور ہو سکتا ہے کہ ٹی وی چینلز کو مزید جلسوں کو براہ راست دکھانے کی اجازت ہی نہ ملے۔

اویس نورانی اور آزاد بلوچستان

رؤف کلاسرا نے کہا کہ اویس نورانی نے آج تقریر میں ایک جگہ بلوچستان کی آزاد ریاست کی بات کر دی جس کی وجہ سے پی ڈی ایم کے لیے اور خود اویس نورانی کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے بھی بھارت کی جانب سے کوشش ہو رہی ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک کو ہوا دی جائے، اب یہ بات ایک قومی سطح کے رہنما نے ٹی وی چینلز کے ذریعے عوام نے سنی ہے تو لوگوں کے جذبات بھڑکے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز، بلاول اور دیگر رہنماؤں کو اس موضوع پر بات کرنی چاہیئے تھی اور خود کو اس سے دور کرنا چاہیئے تھا۔ اویس نورانی کو بھی اعتراف کرنا چاہیئے تھا کہ ان کی زبان پھسل گئی تھی۔

محمود اچکزئی نے کیا کہا؟

رؤف کلاسرا نے بتایا کہ محمود اچکزئی نے کہا کہ افغانستان میں ہماری زمینیں ہیں، ہم اپنی ہی زمینوں پر پاسپورٹ لے کر نہیں جائیں گے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک پاکستانی کی زمینیں افغانستان میں کیسے ہو سکتی ہیں؟ کیا وہ افغان باشندوں کی بات کر رہے تھے جو پاکستان میں ہجرت کر کے آئے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی نے سرحد پر لگائی گئی باڑ اکھاڑ دینے کی بات کی اور اپنے حامیوں کو بھی اس کے لیے اکسایا، اگر آپ باڑ کو نہیں مانتے تو ڈیورنڈ لائن کو بھی نہیں مانتے۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ افغان حکومت بھی ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتی اور پاکستان کے بڑے علاقے پر اپنا حق جتاتی ہے، محمود اچکزئی بھی بنیادی طور پر افغان حکومت کے قریب قریب بات کر رہے ہیں۔

Tags: پی ڈی ایم کا کوئٹہ میں جلسہرؤف کلاسرا
sohail

sohail

Next Post

معذور بھکارن 5 عمارتوں اور 3 کروڑ روپے کی مالکن نکلی

فرانس میں عربی بولنے پر بہن بھائی پر نسل پرستوں کا حملہ

سپین میں کورونا کی دوسری لہر شدت اختیار کر گئی، کرفیو نافذ

دبئی پولیس اہلکار کو رشوت کی پیشکش، پاکستانی شہری مشکل میں پڑ گیا

مطیع اللہ جان کے اغوا کاروں کی شناخت ممکن نہیں، جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In