سینئر صحافی مطیع اللہ جان اغواء کیس کے معاملے پر آئی جی اسلام آباد نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرا دی ہے۔
آئی جی اسلام آباد کی طرف سے جمع کی گئی جے آئی ٹی تفتیش میں پیش رفت رپورٹ کے مطابق اغواء کی ویڈیو میں نظر آنے والے اغواء کاروں کی شناخت ممکن نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نادرا نے ویڈیو میں نظر آنے والے اشخاص کی شناخت سے معذوری ظاہر کی ہے، وڈیو فوٹیج غیر معیاری کیمرے سے بنی ہے اس لیے اغوا کاروں کی گاڑیوں کے نمبرز بھی معلوم نہیں ہو سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نادرا اور این ایچ اے نے تفتیشی ٹیم کے اگست میں لکھے خط پر ابھی تک جواب نہیں دیا، این ایچ اے سے تین ٹول پلازوں کی فوٹیج مانگی گئی تھی۔
اسی طرح آئی جی اسلام آباد کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نادرا کو 5 افراد کی تصاویر دے کر ایڈریس مانگے گئے تھے جو ابھی تک فراہم نہیں کئے گئے۔
رپورٹ کے مطابق آئی بی کے جیو فینسنگ ایکسپرٹ نے واقعے کے وقت علاقے میں 1 لاکھ 21 ہزار موبائل نمبرز ٹریس کیے ہیں، جبکہ جائے وقوعہ پر سیف سٹی کا کوئی کیمرہ نصب نہیں تھا۔
آئی جی اسلام آباد کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ واقعے کا کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں، کسی رہائشی نے اپنا بیان ریکارڈ نہیں کرایا، بیان ریکارڈ کرانے والوں میں صحافی کی اہلیہ اور سکول میں پھینکا گیا موبائل واپس کرنے والی ٹیچر شامل ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ اغوا کاروں کے روٹ پر سیف سٹی کیمروں میں 684 گاڑیوں اور 52 ڈبل کیبن گاڑیوں کی آمدوررفت ریکارڑ ہوئی، گاڑیوں کی نشاندہی کی کوشش جاری ہے۔
اسی طرح بتایا گیا ہے کہ مطیع اللہ جان کے بیان کے بعد نادرا سے زرک خان نامی شخص کا ڈیٹا لیا گیا، نادرا ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں 1236 افراد زرک خان کے نام سے رجسٹرڈ ہیں جن کے متعلق تحقیق کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی اپنی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ بدھ کو مطیع اللہ جان از خود نوٹس پر سماعت کرے گا