فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیانات کے بعد متعدد مسلم ممالک میں فرنچ مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔
عرب ممالک کی ٹریڈ ایسوسی ایشنز کی طرف سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد اب ترکی میں بھی یہی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اس مقصد کیلئے سوشل میڈیا پرفرانس کے مصنوعات کے بائیکاٹ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ مہم چلائی جا رہی ہے اور فرانسیسی مصنوعات کی جگہ متبادل اشیاء رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
خلیجی ریاستون کی تنظیم گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) نے بھی فرانسیسی صدر کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میکرون کا مقصد لوگوں کے درمیان نفرت پھیلانا تھا۔
عالمی سطح پر فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کے بعد فرانس نے عرب ممالک سے اپنی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم ختم کرنے کی اپیل کر دی ہے۔
فرنچ وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بائیکاٹ کے یہ مطالبات بے بنیاد ہیں اور ہمارے ملک کے خلاف ایک بنیاد پرست اقلیت کے حملوں کو فوری رکنا چاہئے۔
خیال رہے گزشتہ دنوں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ملک میں خواتین پر حجاب پہننے پر عائد پابندی کو نجی شعبے میں بھی لاگو کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام ایک مذہب کے طور پر دنیا بھر میں بحران کا شکار ہے، وہ فرانس کی سیکولر اقدار کو ”سخت گیر اسلام” سے محفوظ بنائیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے فرانسیسی صدر کو اسلام مخالف بیان دینے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ایمانوئیل میکرون نے اسلام مخالف بیان دے کر یورپ سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔