سندھ کے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے سے متعلق ایم کیو ایم پاکستان کی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم ملک بھر کے بلدیاتی اداروں سے متعلق گائیڈ لائنز دیں گے، فریقین تحریری معروضات ایک ہفتے میں جمع کرائیں۔
دوران سماعت ایم کیو ایم کے وکیل صلاح الدین نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ٹاؤن پلاننگ کا اختیار سندھ حکومت کے پاس ہے، اسی طرح سوریج سسٹم، پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بھی حکومت سندھ کے کنٹرول میں ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں تو ایک دن پبلک ٹرانسپورٹ چلتی ہے دوسرے دن غائب ہو جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ اور لوکل گورنمنٹ کے درمیان تنازعہ کے بیچ میں عدالت نہیں آئے گی۔
جسٹس اعجاز الااحسن نے ایم کیو ایم کے وکیل سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ صوبائی حکومت سے اختیارات بات چیت کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے استفسار کیا کہ آپ چاہتے ہیں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو ہی خلاف قانون قرار دیکر کالعدم قرار دے دیں؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون بنانے والوں کے اختیار میں مداخلت نہیں کریں گے، صوبائی قوانین کو آئین کے تناظر میں پرکھنا ہائیکورٹس کا کام ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا فریق نہیں ہے، ہم تمام صوبوں کو سنے بغیر ایسا فیصلہ کیسے دے دیں جس کا اطلاق پورے ملک میں ہونا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے اور لوکل گورنمنٹ کے درمیان کارکردگی کی بنیاد بارگیننگ ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ کام نہیں کہ وہ دیکھے کس سیاسی جماعت کو کتنے ووٹ ملے، سپریم کورٹ کا کام سیاسی جماعتوں کے ووٹ گننا نہیں ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے بھی ایم کیو ایم پاکستان کے موقف کی تائید کی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پوری دنیا میں بلدیاتی حکومتوں کے ذریعے عوام کے مسائل حل کیے جاتے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتوں کے کردار کو بھی دیکھنا ہوگا، کسی سیاسی جماعت کی اکثریت کی وجہ سے اسے بلدیاتی اداروں کے حوالے سے قانون سازی کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا کرنے سے دیگر سیاسی جماعتوں کا حق متاثر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر مل بیٹھ کر حل نکالنے کی ضرورت ہے، اگر اس وقت بلدیاتی حکومتیں ہوتیں تو ان کو مکالمہ کیلئے کہا جاسکتا تھا، اگر قانون سازی سے کسی طبقے کو یہ محسوس ہوا کہ اسکا حق متاثر ہوا تو اسکے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا تیسرا سال ہے لیکن قومی سطح پر ابھی تک کوئی گائیڈ لائنز نہیں دی جا سکیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ہم سطحی چیزوں کی طرف نہیں جائیں گے۔
ایڈوکیٹ جنرل سندھ سلیمان طالب الدین بھی عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے کہا کہ درخواست گزار کی خواہش ہے کہ ان کو یہ بھی دیں وہ بھی دیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین کے آرٹیکل 140کے تحت لوکل گورنمنٹ مالی، انتظامی اور سیاسی کام کر سکتی ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایک شہر کے بنیادی امور واٹر سپلائی، بلڈنگ کنٹرول اور ٹاؤن پلاننگ، سیوریج لوکل گورنمنٹ کے ذمہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ تمام کام لوکل گورنمنٹ کے ہیں تو قانون سازی بھی اس حساب سے ہونی چاہیئے۔
بعد ازاں عدالت نے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے سے متعلق ایم کیو ایم کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔