• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, اپریل 4, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

ایک ہی شخص کئی بار کورونا کا شکار ہو سکتا ہے، نئی تحقیق میں انکشاف

by sohail
اکتوبر 27, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

امپیریل کالج لندن کے ریسرچرز نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز تیزی سے ختم ہونے لگتی ہیں جس کی وجہ سے ایک شخص کئی بار کورونا کا شکار ہو سکتا ہے۔

انٹی باڈیز انسانی جسم کی قوت مدافعت کا بنیادی جزو ہے جو ہر وقت جراثیموں اور وائرس کے خلاف لڑتی رہتی ہیں۔

امپیریل کالج لندن میں ریسرچرز کی ٹیم نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ جون میں کورونا کا شکار ہونے والوں کے جسم میں ستمبر تک انٹی باڈیز کی شرح 26 فیصد تک گر گئی ہے۔

اس تحقیق کے پہلے مرحلے پر جون کے آخر اور جولائی کے آغاز میں 1000 افراد میں سے 60 میں انٹی باڈیز موجود پائی گئیں۔

تاہم سمتبر میں ہونے والے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ 1000 میں سے 44 افراد کے جسم میں انٹی باڈیز موجود تھیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ایک چوتھائی افراد میں انٹی باڈیز گر گئی تھیں۔

ریسرچ کرنے والی ٹیم میں شامل پروفیسر ہیلن وارڈ کا کہنا ہے کہ انٹی باڈیز تیزی سے غائب ہوتی ہیں، ابھی تحقیق کے پہلے مرحلے میں 3 ماہ گزرے ہیں اور 26 فیصد انٹی باڈیز گر چکی ہیں۔

نوجوانوں کی نسبت 65 برس سے زیادہ کی عمر والوں میں انٹی باڈیز گرنے کی رفتار مزید تیز دیکھی گئی ہے، اسی طرح جن لوگوں میں کورونا کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں ان میں بھی انٹی باڈیز کم ہونے کی رفتار تیز رہی جبکہ کورونا کی شدید علامات کا شکار ہونے والوں میں یہ رفتار کم رہی ہے۔

ہیلتھ ورکرز میں انٹی باڈیز زیادہ دیر تک موجود رہی ہیں اس کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ انہیں مسلسل کورونا وائرس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انٹی باڈیز کورونا وائرس کی سطح سے چمٹ جاتی ہے اور اسے انسانی خلیوں پر حملہ کرنے سے روک دیتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ جسم کے مدافعاتی نظام کو بھی جگاتی ہیں۔

اب تک دنیا میں کئی ایسے کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں ایک ہی شخص دو بار کورونا کا شکار ہوا ہے تاہم سائنسدانوں کو امید ہے کہ دوسری بار ہونے والی انفیکشن شدید نہیں ہو گی کیونکہ قوت مدافعت کی یادداشت میں گزشتہ حملہ موجود ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس کی 4 ایسی اقسام ہیں جن کے مقابلے میں انٹی باڈیز کم ہو جاتی ہیں، ان میں سے ایک قسم زکام کی ہے، اس کے خلاف انٹی باڈیز 6 ماہ سے ایک برس کے دوران ختم ہو جاتی ہیں۔

Tags: انٹی باڈیزکورونا پر جدید تحقیقکورونا وائرس
sohail

sohail

Next Post

کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی بند کرنے کا فیصلہ

اٹلی: کورونا پر قابو پانے کے لیے حکومتی پابندیوں کے خلاف شدید مظاہرے شروع

واٹس ایپ بزنس استعمال کرنے والوں کو اب رقم ادا کرنی پڑے گی

پاکستان کی بار ایسوسی ایشنز نے جسٹس عیسیٰ کیس پر نظرثانی کے متعلق اعتراض اٹھا دیا

اب حکومت کے خلاف دما دم مست قلندر کرنا ہو گا، اختر مینگل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In