ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز، بار کونسلز نے جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں مختصر فیصلہ پر نظر ثانی درخواستیں سات رکنی بنچ کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کرنے پر اعتراض اٹھا دیا۔
سپریم کورٹ نے جون میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کے خلاف پٹیشن پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے انکی اہلیہ کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
واضح رہے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بنچ نے 28 اکتوبر کو نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کرنی ہے جس میں 10 رکنی فل کورٹ بینچ کے ارکان جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل نہیں ہیں۔
سات رکنی بنچ پر اعتراض اٹھانے والی بارز میں سپریم کورٹ بار، کوئٹہ بار شامل بھی شامل ہیں۔ اعتراض اٹھانے والوں میں پنجاب بار کونسل اور بلوچستان بار کونسل بھی لارجر بنچ پر اعتراض اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔
بار کونسلز نے التوا کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ عام طور پر نظرثانی درخواستیں وہی بنچ سنتا ہے جس بنچ نے مرکزی مقدمہ سنا ہو۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نظرثانی درخواستیں 10 رکنی بنچ کے سامنے ہی سماعت کیلئے مقرر کی جائیں، چیف جسٹس گلزار احمد نظرثانی درخواستوں پر سماعت کیلئے وہی دس رکنی بنچ تشکیل دیں جس نے پہلے مقدمہ سنا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواستوں کا مختصر حکمنامہ 19 جون جبکہ تفصیلی فیصلہ 22 اکتوبر کو جاری کیا گیا لہذا نظر ثانی درخواستوں پر ترمیم کی ضرورت ہے۔