وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں وزراء نے بیوروکریسی کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیئے، اراکین نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ذمہ دار بیورو کریسی کو قرار دے دیا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزراء کا کہنا تھا کہ ان کے حلقے کے عوام ان سے مہنگائی بارے استفسار کرتے ہیں۔
وفاقی وزراء میں پرویز خٹک، مراد سعید، فیصل واوڈا اور ندیم افضل چن نے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات پر زوردیا۔
وزیر دفاع پرویز خٹک کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ مہنگائی پر قابوپانے میں جب بیوروکریسی ناکام ہے تو بروقت اقدامات کیوں نہیں اٹھائے گئے؟
فیصل واوڈا نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بیور کریٹس کے روایتی ہتھکنڈے بے نقاب ہونے چاہئے۔
فوڈ سیکرٹری نے وفاقی وزراء کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم
30،30 سال سروس کرچکے ہیں، ساری ذمہ داری ہم پر نہ ڈالی جائے۔
وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کو یقین دہانی کرائی کی مہنگائی کنٹرول کرنے کے حوالے سے اقدامات کئے جا رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان ریلویز ریفارمز کی منظوری بھی دی گئی، ریفارمزمیں ایم ایل ون کی تکمیل اور کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کی بحالی بھی شامل ہے۔