اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی آغا رفیع اللہ کو ایوان سے باہر جانے کا حکم دے دیا۔
انہوں نے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ بہت زیادہ بدتمیزی کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہاؤس کی کارروائی میں مداخلت کر رہے ہیں۔
آغا رفیع اللہ نے کہا کہ مجھے وزیراعظم کے معاونین خصوصی سے متعلق نکتہ اعتراض پر بات کرنے دی جائے، ڈپٹی سپیکر کی جانب سے موقع نہ دینے پر آغا رفیع اللہ نے احتجاج کیا۔
ڈپٹی اسپیکر کے آغا رفیع اللہ کو ایوان سے باہر نکالنے کے معاملے پر اپوزیشن ارکان نے نو نو کے نعرے لگائے، شیریں مزادی نے سارجنٹ ایٹ آرمز سے پوچھا کہ آپ انہیں باہر کیوں نہیں نکالتے۔
بعد ازاں پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی ایوان سے باہر چلے گئے۔
ڈپٹی اسپیکر نے حکم دیا کہ پورے سیشن کے دوران آغا رفیع اللہ کو داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے ڈپٹی اسپیکر سے کہا کہ میں معذرت کرتا ہوں، آپ رولنگ واپس لے لیں مگر انہوں نے معذرت مسترد کر دی۔
ایوان میں آج بھی ہنگامہ آرائی جاری رہی، اپوزیشن ارکان سیٹیاں بجاتے رہے۔ اپوزیشن نے گندم کے معاملے پر ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
رول نمبر 19 کے تحت اسپیکر کسی رکن کو ایوان کے ماحول خراب کرنے پر ایوان سے نکال سکتا ہے یا اسے معطل کر سکتا ہے۔