فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور صدر کے متنازعہ بیان سے شروع ہونے والا مسلم ممالک کا بائیکاٹ فرانس کو معاشی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم ممالک کی جانب سے فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ سے فرانس کی معیشت کو 46 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ترک خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے مسلم ممالک کی جانب سے شروع کی گئی بائیکاٹ مہم سے فرانس کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق سالانہ 46 ارب ڈالر کی مصنوعات فرانس سے مسلم ممالک کو برآمد کی جاتی ہے جبکہ فرانس کا مسلمان ممالک سے تجارتی حجم 100 ارب ڈالر کے قریب ہے۔
ماہرین معیشت کے مطابق اگر تمام مسلم ممالک فرانسیسی اشیاء کا بائیکاٹ کریں تو فرانس کی معیشت کو 46 ارب کا دھچکا لگ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کے حق میں بیان کے بعد سب سے پہلے ترک صدر نے شہریوں سے فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کی درخواست کی تھی۔
ترک صدر کی درخواست کے بعد دیگر مسلم ممالک نے فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم شروع کردی تھی۔
ایک رپورٹ کے مطابق کویت، اردن اور قطر سمیت کئی مسلم ممالک نے اپنے اسٹورز سے فرانسیسی اشیاء کو ہٹا دیا ہے۔
اس سے قبل فرانسیسی وزیر خارجہ نے عرب ممالک سے درخواست کی تھی کہ ہ فرانس کی اشیاء کے بائیکاٹ کو ختم کریں۔
فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ فرانس کے خلاف بائیکاٹ مہم بے بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا ہمارے ملک میں بنیاد پرست اقلیتوں کے حملوں کو روکے جانے پر بات کرنی چاہیے۔