وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صرف اشرافیہ کے لیے مخصوص کلب 352 ایکڑ سرکاری رقبے پر محیط ہے مگر حکومت کو صرف 3 روپے فی ایکڑ کرایہ دیا جاتا ہے۔
جنگ اخبار میں شائع عمر چیمہ کی رپورٹ کے مطابق اس کلب میں عام لوگوں کا داخلہ ممنوع ہے، یہاں وسیع پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں بھی جاری رہتی ہیں۔
اس کلب کو 53 سال قبل لیز دی گئی تھی، آڈیٹر جنرل نے کلب کو قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے۔
ایک شہری نے کلب انتظامیہ سے تفصیلات مانگیں تو انہیں کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا گیا جس کے وہ انہوں نے پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) رابطہ کیا جہاں کلب کے منتظم سردار احمد نواز سکھیرا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کلب کے فنڈز ممبرشپ سے پیدا کیے جاتے ہیں، اس میں عوام کا پیسہ استعمال نہیں ہوتا۔
پی آئی سی کے سوالات کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سی ڈی اے لیز کی رقم سالانہ وصول کرتا ہے، اسلام آباد کلب کی سالانہ لیز کی رقم 14 ہزار 700 روپے جبکہ پولو گراؤنڈ کی لیز کی رقم سالانہ 12 ہزار 300 روپے ہے۔
اس حساب سے دیکھا جائے تو 352 ایکڑ رقبے پر محیط کلب صرف 3 روپے بھی ایکڑ سالانہ لیز سی ڈی اے کو دیتا ہے۔
1967ء میں سی ڈی اے نے 10 سال کے لیے کلب انتظامیہ کو 244 ایکڑ زمین ایک روپیہ فی ایکڑ پر دی تھی۔ معاہدے کے تحت 10 سال بعد کرایے پر نظرثانی ہونا تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔
بعد ازاں مزید 108 ایکڑ دے کر کلب کا رقبہ 352 ایکڑ تک پھیلا دیا گیا۔
پی آئی سی نے آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ زمین سرکار نے لیز پر دی ہے لہٰذا اسلام آباد کلب ’’سرکاری ادارہ‘‘ ہے۔
پی آئی سی نے 18 اگست کو کلب کو ہدایت کی کہ وہ 7 دن میں معلومات فراہم کرے تاہم اب تک انتظامیہ نے کوئی معلومات فراہم نہیں کی حالانکہ دو شو کاز نوٹس بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔
اس سے قبل آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ کلب تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے جو غلط ہے کیونکہ کمرشل مقاصد کیلئے دی جانے والی زمین لیز پر کھلی نیلامی میں دی جاتی ہے اور اس کے مطابق ہی فیس لی جاتی ہے۔