سعودی عرب میں آجر اور غیرملکی ملازمین کے درمیان کفالہ کے نام سے معروف نظام کی جگہ نئے معاہدے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یاد رہے سعودی عرب میں غیر ملکی ملازمین اور آجر کے درمیان 70 برس سے کفالہ کے نام سے رائج معاہدے کو ختم کرنے پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نئے نظام سے کارکن اور مزدور استحصال کا شکار ہوں گے۔
اس حوالے سے سعودی میڈیا کا کہنا ہے کہ کفالہ کے قانون کا خاتمہ آجر اور غیر ملکی ملازمین کے درمیان تعلقات کو روزگار کے ایک ایسے معاہدے تک محدود کر دے گا جو دونوں فریقوں کے حقوق اور فرائض کی وضاحت کرے گا۔
واضح رہے کفالہ کی جگہ ملازمت کے نئے معاہدے میں طے شدہ قانون کے مطابق غیرملکی مزدوروں کو نقل و حرکت کی مکمل آزادی حاصل ہو گی۔
سعودی عرب میں مالکان کی بڑی تعداد نے کفالہ کا غلط استعال کرکے غیرملکی مزدوروں کیلئے مشکلات پیدا کیں جس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے کفالہ کے نظام کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔
سعودی حکام کا ماننا ہے کہ کفالہ کے نظام نے بیرونی طور پر ریاست کے تشخص پر برا اثر ڈالا یہاں تک کہ یہ نظام ریاست میں ملازمت کے مواقعوں پر بھی بری طرح اثر انداز ہوا کیونکہ اسپانسرز نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے اس نظام کا غلط استعال کرنا شروع کر دیا تھا۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ کفالت نظام کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس نے تجارتی ویزا کیلئے بلیک مارکیٹ کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
سعودی عرب نے 2019 میں کچھ غیر ملکیوں کیلئے مستقل رہائشی پروگرام پریمیم ریذیڈنسی کارڈ ( پی آر سی) شروع کیا تھا تاکہ غیرملکی سعودی کفیل کے بغیر اپنے اہل خانہ کے ساتھ اس ملک میں رہ سکیں۔
کفالہ کی جگہ نیا نظام غیر ملکیوں کو نقل و حرکت کی آزادی، رہائش کے اجرا کے حقوق اور اپنے رشتہ داروں کے لئے ویزا کے حصول کے مواقع فراہم کرتا ہے۔