فرانس نے مسلم اکثریتی ممالک میں مقیم اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں سفر کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
فرانسیسی حکومت نے پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے بعد مسلم ممالک میں ہونے والے شدید احتجاجی مظاہروں اور فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم کے پیش نظر اپنے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایات کی ہیں۔
یاد رہے فرانس کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور 16 اکتوبر کو ایک مقامی اسکول کے باہر استاد کا سر قلم کیے جانے والے واقعے کے بعد فرانس اور مسلم ممالک میں تذبذب کی سی کیفیت دیکھی جا رہی ہے۔
16 اکتوبر کو فرانس کے ایک مقامی اسکول کے تاریخ کے استاد کا سر قلم کر دیا گیا تھا۔ استاد نے اپنی کلاس کے بچوں کو گستاخانے دکھاتے ہوئے آذادی اظہار رائے کے بارے میں بات کی تھی۔
استاد کی جانب سے اس عمل کے بعد کئی مسلمان والدین نے اسکول انتظامیہ کو احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔
گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک نے شدید مذمت کی گئی تھی۔
منگل کو فرانسیسی وزارت خارجہ کی جانب سے شہریوں کے لیے سیفٹی ایڈوائزری جاری کی گئی جس میں شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ مسلمان ممالک میں سفر یا قیام کے دوران احتیاط کریں۔
وزارت خارجہ سے انڈونیشیا، بنگلہ دیش، عراق اور موریطانیہ میں رہائش پذیر شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے قیام کے دوران محتاط رہیں۔
ترکی میں موجود فرانسیسی سفارتخانے کی جانب سے بھی شہریوں کے لیے یہی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
یاد رہے ترک صدر رجب طیب اردوان نے فرانسیسی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے عوام کو فرانسیسی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے پر زور دیا تھا۔
فرانس کے وزیر داخلہ گیرالڈ درمینن نے اپنے بیان میں پاکستان اور ترکی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
اپنے پیغام میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی فرانس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نا کریں۔
دوسری جانب فرانس نے انقرہ میں موجود اپنے سفیر کو وطن واپس بلا لیا ہے۔
پاکستان کی پارلیمنٹ نے سوموار کو ایک قراداد منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاکستان پیرس سے اپنا سفیر واپس بلائے۔
یاد رہے فرانسیسی میگزین چارلی ایبدو میں پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا تھا۔
چارلی ایبدو میگزین کے ایڈیٹر کے حملے کے دوران 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔