وزیراعظم کےمعاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہو چکی ہے، کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح ڈھائی سے پونے تین فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کی دوسری لہر کے باعث کاروباری سرگرمیوں اورتقریبات کے اوقات کار کیلئے مشاورت کی جارہی ہے، انسانی جانوں کو محفوظ بنانے کیلئے پابندیوں کو سخت کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے حوالے سے ایک دو روز میں واضح سفارشات سامنے آجائیں گی، تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد سفارشات پیش کی جائیں گی۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے جس طرح کی احتیاطی تدابیراختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی سطح پراس طرح کی احتیاط نہیں کی جا رہی ہے، اس لیے پابندیوں میں سختی کرنا ناگزیر ہوگیا ہے جبکہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اضافی سختی عمل میں لائی جائے گی۔
ڈاکٹر فیصل سلطان کا مزید کہنا تھا کہ مقامی سطح پر پابندیوں کی خلاف ورزی پر جرمانے بھی عائد کئے جائیں گے، حکومت نہیں چاہتی کہ پابندیاں اور سختیاں کی جائیں تاہم ایس او پیز پر عمل کے بغیر کورونا وبا کی دوسری لہر پرقابو پانا مشکل ہو گا۔
واضح رہے موسم سرما شروع ہوتے ہی کئی ممالک میں کورونا کی دوسری لہر کا آغاز ہو گیا ہے، کورونا کے پھیلاؤ کو کم کرنے کیلئے سپین سمیت متعدد ممالک میں عوام کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں