اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وزیراعظم عمران خان کو 2014 کے دھرنے کے دوران پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے مقدمے سے بری کر دیا۔
عدالت نے مقدمے میں نامزد شاہ محمود قریشی، شوکت یوسفزئی، جہانگیر ترین اور دیگر افراد کو 12 نومبر کو فرد جرم کے لیے طلب کر لیا ہے۔
جج راجہ جواد عباس نے 26 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے آج سنایا گیا ہے۔
2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے مل کر وفاقی دارالحکومت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف دھرنا دیا تھا، پی ٹی آئی کا موقف تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے جبکہ عوامی تحریک ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے قتل عام کے خلاف دھرنا دے رہی تھی۔
اس دھرنے کے دوران دونوں جماعتوں کے کارکنوں نے وزیراعظم ہاؤس کی جانب مارچ شروع کیا تھا جس کے بعد ان کی پولیس سے جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
پولیس نے پی ٹی آئی کے مختلف رہنماؤں کے خلاف تشدد کو ہوا دینے کے الزام میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، ملزمان میں عمران خان، ڈاکٹر عارف علوی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور دیگر رہنما شامل تھے۔
جج نے پی ٹی وی حملہ کیس سے عمران خان کی بریت کا کیس الگ کردیا تھا اور پی ٹی وی حملہ کیس کی گزشتہ سماعت میں وزیراعظم کے وکیل کو 12 نومبر تک دلائل سمیٹنے کی ہدایت کی تھی۔