پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر مسلسل پھیل رہی ہے جس کے باعث کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ملک میں نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے جس کا اطلاق آج سے ہو گا۔
اس حوالے سے این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ کورونا کی پھیلتی ہوئی وبا کو صرف اسی صورت قابو کیا جا سکتا ہے جب عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
انہوں نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ 2 ماہ کے بعد گزشتہ روز پاکستان میں کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح 3 فیصد سے زیادہ رہی۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس لیے ریسٹورنٹس، شادی ہالز اور کاروباری مراکز کو رات 10 بجے بند کیا جائے گا جبکہ گھروں سے باہر نکلنے پر ماسک کا استعمال بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔
این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا سے مزید 16 اموات ہوئی ہیں جس سے مرنے والوں کی تعداد 6775 ہو گئی ہے جبکہ 908 نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 31 ہزار 801 ہو گئی ہے۔
سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، ان کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے دوران اسکول بند ہوئے جس سے تعلیم کا نقصان ہوا لیکن کچھ معلوم نہیں کہ دوبارہ کب اسکول بند ہو جائیں۔
سعید غنی کا کہنا تھا کہ اسکول بند ہونے کی صورت میں طلباء گھروں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ 60 فیصد علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔