ترکی کے صدر طیب اردوان نے الزام عائد کیا ہے کہ مغرب ایک بار پھر مسلمانوں کے ساتھ صلیبی جنگیں شروع کرنا چاہتا ہے۔
ترک پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات پر حملوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہمارے لیے عزت کا معاملہ ہے۔
رجب طیب اردوان نے بتایا کہ انہوں نے توہین آمیز خاکے نہیں دیکھے کیونکہ ان غیراخلاقی خاکوں کو دیکھنا تک غلط ہے۔
انہوں نے نوآبادیاتی طاقتوں کو قاتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغرب نے ایک مرتبہ پھر بربریت کا رستہ اختیار کیا ہے۔
رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک واضح طور پر دوبارہ صلیبی جنگیں شروع کرنا چاہتے ہیں، ان جنگوں کے بعد سے مسلمانوں کی سرزمین پر برائی اور نفرت کے بیج بونا شروع کیے گئے اور امن متاثر ہوا۔
فرانس میں اسلاموفوبیا کی تازہ لہر اس وقت شروع ہوئی جب گزشتہ دنوں گستاخانہ خاکے دکھانے پر ایک استاد کا سر قلم کر دیا گیا۔
فرانسیسی حکومت نے اس کے جواب میں انتہاپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کو سرکاری سطح پر دکھانے کا اہتمام تھا جس پر مسلم ممالک میں غم و غصہ پھیل گیا۔
ترکی اور پاکستان نے اس حوالے سے سب سے زیادہ ردعمل کا مظاہرہ کیا جبکہ عرب ممالک سمیت دیگر مسلمان ملکوں کے عوام نے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ شروع کر دیا۔
مسلم ممالک میں مختلف مقامات پر فرانس کے خلاف مظاہرے بھی کیے گئے۔ اس دوران چارلی ہیبڈو نے سرورق پر ترک صدر کا تضحیک آمیز خاکہ شائع کر دیا جس پر ترکی نے قانونی اور سفارتی اقدامات کا اعلان کر دیا۔
ترک حکام نے اسے ثقافتی نسل پرستی اور نفرت پر مبنی مکروہ کوشش قرار دیا۔