سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جی آئی ڈی سی کیس میں نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی ہے۔
سماعت کے دوران بینچ کے ممبر جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ گیس منصوبوں پر تاحال ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا، حکومت نے صرف دفاتر بنانے پر ہی پیسہ خرچ کیا۔
جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو مزید رقم وصول کرنے سے روک چکے ہیں، حکومت کو پہلے وصول کی گئی رقم خرچ کرنا ہوگی۔
نجی کمپنیز کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اب تک 271 ارب سے زائد جمع کر چکی ہے، ٹاپی، شمالی و جنوبی، زیر زمین سٹوریج منصوبوں کے بعد حکومت کے پاس رقم بچ جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت چاہے تو بقیہ رقم سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ شروع کرسکتی ہے، حکومت کی جانب سے مزید 456 ارب روپے جمع کرنے کا کوئی جواز نہیں.
سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ حکومت کے سارے منصوبے ابھی ہوا میں ہی ہیں۔
کیس میں ایک اور وکیل عابد زبیری نے عدالت کو بتایا کہ کئی صنعتوں نے گیس انفراسٹرکچر سیس وصول ہی نہیں کیا، جس انڈسٹری نے سیس وصول ہی نہیں کیا وہ حکومت کو ادا کیسے کرے۔
انہوں نے بینچ سے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن وصول شدہ رقم کی تحقیقات کرے۔
جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ حکم امتناع بھی عدالتی فیصلے کے ماتحت ہی ہوتا ہے۔
جسٹس فیصل عرب نے واضح کیا کہا کہ کسی کمپنی کے حکم امتناع لینے سے واجب الادا رقم ختم نہیں ہوتی۔
وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے کوئی گیس منصوبہ شروع کرنے کی دستاویزات پیش نہیں کیں۔
جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ آئندہ سماعت پر کارروائی مکمل کی جائے گی۔
بعدازاں عدالت نے مزید سماعت سوموار تک ملتوی کردی۔