پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن 2018 کے انتخابات کو منسوخ کرے اور نئے انتخابات کا اعلان کرے۔
مولانافضل الرحمان نے کہا کہ میں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا، پاکستان میں حکومت نہیں ہے، جو ہے وہ بیساکھی پر کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسوں میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، عوام حکومت سے بیزار ہو چکے ہیں حکومت کو بھی اس کا ادراک ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ نہ مذاکرات کرتے ہیں اور نہ ہی مذاکرات کے حق میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپوزیشن کی تحریک سے مطمئن ہیں کیونکہ تحریک آگے بڑھ رہی ہے، حکومت سکیورٹی نہیں دے سکتی تو ہم جلسے کی خود سکیورٹی کریں گے۔
گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ وقت ثابت کر رہا ہے کہ مسلمان شدت پسند نہیں ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ فرانس سے حکومتی معاہدے ختم کر دیے جائیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فرانس میں گستاخانہ خاکے پوری قوم کیلئے مضطرب کا باعث ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولہ عمران خان کا تھا، مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کر کے ہندوستان میں شامل کر دیا گیا، پاکستانی سفارتی سطح پر کوئی کوشش نہیں ہے، حکومت کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر خاموشی رضا مندی کی طرح خاموشی تھی۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں بھی اسٹیک ہولڈر کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔