پاکستان کے معروف اینکر اور سینئر صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ جب پاکستان نے بھارتی طیارہ گرا کر اس کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا تو پاک بھارت جنگ کے خطرات بڑھ گئے تھے۔۔
اپنے وی لاگ میں انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت 5 اہم ممالک پاکستان پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ پائلٹ کو بھارت کے حوالے کر دے تاکہ خطے میں کشیدگی کا ماحول ختم ہو۔
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ پاکستانی فوج ابھی نندن کو چھوڑنے پر تیار نہیں تھی، بعد ازاں حکومت اور اپوزیشن کا اجلاس بلایا گیا جس میں یہ معاملہ پیش کیا گیا تھا۔
بھارتی دھمکی اور پاکستان کا جواب
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ جس وقت پاکستان نے بھارتی طیارہ گرا کر اس کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا تو بھارت کے اندر اپنی حکومت کے خلاف ایک بڑا ری ایکشن آیا کیونکہ مودی نے بڑے دعوے کیے ہوئ تھے۔
انہوں نے کہا کہ بالاکوٹ پر بھارتی طیاروں کی بمباری کے بعد مودی کے دعووں سے یہ یوں لگتا تھا جیسے بھارتی فوج آئے گی اور پاکستان کو روند کر رکھ دے گی۔ اس لیے جب بھارتی طیارہ گرا تو وہاں کے عوام میں اس کا شدید ردعمل سامنے آیا اور وہاں بدلہ لینے کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔
رؤف کلاسرا کے مطابق اس وقت بھارت کے لیے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ جوابی کارروائی کرے جبکہ پاکستان کے لیے اپنا دفاع مضبوط کرنا لازم ہو چکا تھا، اس صورتحال میں ایک بڑی جنگ کے خدشات منڈلانے لگے تھے۔
چھوٹے ایشوز اور بڑی جنگیں
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ بڑی جنگیں ہمیشہ چھوٹے چھوٹے ایشوز سے شروع ہوتی ہیں، پہلی جنگ عظیم ایک شہزادے کو گولی مارنے پر شروع ہوئی تھی جس میں لاکھوں لوگ مارے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ خطرہ تھا کہ اگر ایک ملک روایتی جنگ ہارنے لگا تو وہ کہیں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ نہ کر لے۔
کون سے 5 ممالک نے مداخلت کی؟
رؤف کلاسرا کا اپنے وی لاگ میں کہنا ہے کہ ان حالات میں 5 ممالک ایسے تھے جنہوں نے مداخلت کی۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی حکومت کے سینٹکام کے چیف جنرل جوزف نے سب سے پہلے پاکستانی آرمی چیف کو فون کیا۔
ان کا یہی کہنا تھا کہ صورتحال کی کشیدگی کم کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ ابھی نندن کو چھوڑ دیا جائے، اس سے بھارت کو کوئی جوابی کارروائی کا جواز نہیں ملے گا۔
رؤف کلاسرا کے مطابق اس وقت کے عالمی اخبارات میں یہ خبریں شائع ہو رہی تھیں کہ پاکستانی فوج بھارتی پائلٹ کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہے، اس کا خیال تھا کہ ابھی قوم اس واقعے پر خوشیاں منا رہی ہے اگر اسے جلدی چھوڑ دیا گیا تو پاکستانی عوام اسے پسند نہیں کرے گی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستانی فوج میں یہ سوچ موجود تھی کہ بعد میں کسی مناسب موقع پر اپنی باتیں منوانے کے لیے ابھی نندن کو استعمال کیا جائے گا۔
رؤف کلاسرا کے مطابق ایک طرف جنرل جوزف آرمی چیف کے ساتھ رابطے میں تھے تو دوسری جانب امریکہ کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن بھارت کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول کے ساتھ رابطے میں تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بھارتی پائلٹ کو چھوڑنے پر تیار نظر نہ آئی تو امریکیوں نے برطانیہ کو بھی اس معاملے میں شامل کر لیا۔
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ اس معاملے میں چین نے بھی اپنا کردار ادا کیا کیونکہ لداخ انہیں قریب پڑتا ہے اور جنگ بڑھنے کی صورت میں ان پر بھی اس کے اثرات پڑنے تھے۔
ان کے مطابق پاکستانی فوج کی جانب سے ہچکچاہٹ جاری رہی اور دوسری جانب بھارتی ارادے بھی خطرناک نظر آئے تو سعودی عرب اور یو اے ای کو بھی اس معاملے میں شامل کر لیا گیا۔
رؤف کلاسرا نے بتایا کہ امریکیوں نے پاکستانی فوجی قیادت سے درخواست کی کہ ابھی نندن کو سودے بازی کے بجائے امن کے لیے استعمال کریں۔ جب ان 5 ممالک نے پاکستان پر دباؤ ڈالا تو پاک فوج نے سیاسی قیادت سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ایمرجنسی میٹنگ بلائی گئی جس میں اپوزیشن کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ صورتحال کیا ہے اور کون سے ممالک بھارتی پائلٹ کو چھوڑنے کے لیے درخواست کر رہے ہیں۔
رؤف کلاسرا کے مطابق آرمی چیف اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دی کہ اگر بھارت پائلٹ کو نہ چھوڑا گیا تو جنگ کا خدشہ بڑھ جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے اتفاق رائے کے بعد ان 5 ممالک کو اطلاع دی گئی کہ پاکستان بھارتی پائلٹ کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔
رؤف کلاسرا نے مطابق دنیا بھر میں اس طرح کے معاملات ہوتے ہیں، فوجی قیادت ہمشیہ سویلین قیادت کو بریف کیا کرتی ہے لیکن جس طرح ایاز صادق نے یہ بات بیان کی اس سے بھارت نے پورا فائدہ اٹھایا اور اس وقت بھارتی فضائیہ کو ہونے والی شکست کا داغ مٹانے کا بھی موقع مل گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا پر اس وقت شور مچا ہوا ہے اور پاکستانی قوم کا بھارتی فوج کو شکست دینے کا احساس بھی مجروح ہوا ہے، اس سے پاکستانی فوج اور حکومت کے لیے بھی پریشانی پیدا ہوئی ہے۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ اس وقت نون لیگ اور فوجی قیادت کے درمیان جو محاذ آرائی جاری ہے وہ بہت خطرناک ہے، یوں لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جس قسم کے بھی ریاستی سطح کے راز ان کے پاس ہیں، وہ انہیں آشکار کرتے جائیں گے۔
رؤف کلاسرا نے آخر میں کہا کہ تیر کمان سے نکل چکا ہے اور ایاز صادق کی وضاحتوں یا معافی کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔