چین کے شہر شنگھائی میں ایک 85 سال پرانے پرائمری اسکول کی عمارت کو ایک نئی ٹیکنالوجی "چلنے والی مشین” کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسکول کی اس 5 سالہ عمارت کو چلنے میں مدد دینے کے لیے انجینئرز نے 198 متحرک سپورٹس استعمال کیں جن کی مدد سے اس بڑی عمارت نے 203 فٹ کا فاصلہ چل کر طے کیا۔
اس پراجیکٹ کے چیف ٹیکنیکل سپروائزر لین ووجی نے سی این این کو بتایا کہ ان سپورٹس نے عمارت کے لیے ٹانگوں جیسا کام کیا، انہیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا جو ٹانگوں کی طرح باری باری اٹھتی اور نیچے ہوتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ سینسرز منسلک کیے گئے تھے جنہوں نے عمارت کے چلنے کو کنٹرول کیے رکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سپورٹس ایک طرح سے بیساکھیاں تھیں جن کی مدد سے 76 ہزار ٹن وزنی عمارت ایک بار اٹھی اور پھر اس نے چلنا شروع کر دیا۔
یہ اسکول 1935 میں تعمیر کیا گیا تھا، اسے ہٹانا اس لیے ضروری ہو گیا تھا کہ اس جگہ ایک نیا کمرشل اور آفس کمپلیکس تعمیر کرنا مقصود تھا۔
لین نے بتایا کہ ورکرز نے پہلے عمارت کے چاروں طرف زمین کھودی تاکہ 198 موبائل سپورٹس ان میں رکھی جا سکیں۔ اس کے بعد ستونوں کو کاٹا گیا جس کے بعد ان مشینی سپورٹس نے عمارت کو سہارا دے کر کھڑا کیا تاکہ یہ آگے بڑھنے کے قابل ہو سکے۔
18 دن پر مشتمل اس آپریشن میں عمارت کو 21 ڈگری کے زاویے پر موڑا گیا اور 203 فٹ (62 میٹر) دور نئی لوکیشن پر منتقل کر دیا گیا۔
چین میں ماؤزے تنگ کے دور میں تاریخی اہمیت کی عمارتوں کو بے دردی سے ڈھایا گیا، یہ عمل ثقافتی انقلاب کے دوران بہت زیادہ تیزتر رہا۔
ان کی حکومت کے بعد ملک بھر میں ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کی اہمیت بڑھنے لگی اور کوشش کی جاتی ہے کہ پرانی عمارتوں اور آثار کو جدید دور کی ترقی سے محفوظ رکھا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ 85 سالہ پرانی عمارت کو گرانے کے بجائے مکمل شکل میں دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔