وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کی وجہ سے ملک میں کورونا نہیں پھیل رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے پھیلاؤ کا باعث ریسٹورنٹس، شادی ہالز اور بڑی مارکیٹس بن رہی ہیں۔
اسد عمر نے بتایا کہ ستمبر میں کورونا کی شرح 1.7 سے 1.8 فیصد تھی جس میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا اور 72 دن کے اندر یہ شرح بڑھ کر 3 فیصد ہو گئی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ تعلیمی ادارے دیگر سیکٹرز کی نسبت ایس او پیز پر سختی سے عمل کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان اداروں سے کورونا نہیں پھیل رہا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے، اگر حکومت کو سخت اقدامات کی ضرورت پڑی تو کیے جائیں گے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ فی الحال کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگر ایسا ضروری سمجھا گیا تو قانون بھی بنایا جائے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں تین ماہ بعد ایک ہی دن میں 20 ہلاکتیں اور ایک ہزار سے زائد کورونا کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ عالمی وبا کی دوسری لہر پاکستان کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
ملک میں 29 جولائی کو ایک روز میں کورونا کے 1063 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جس کے بعد اب گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین ماہ بعد ایک روز میں سب سے زیادہ 1078 کیسز سامنے آئے ہیں۔
این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 32933 ٹیسٹ کیے گئے جن سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 70 روز بعد کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 3 فیصد سے زائد رہی ہے۔
سرکاری پورٹل کے مطابق ملک میں کورونا کیسز سے ہلاکتوں کی تعداد 6795 ہوگئی ہے جب مجموعی کیسز 3 لاکھ 32186 تک جا پہنچے ہیں۔