معروف امریکی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنے سرچ انجن کی تیاری کا کام شروع کر دیا ہے جسے گوگل کا متبادل بھی کہا جا رہا ہے۔
ایپل کے ذاتی سرچ انجن کے تیاری کے بعد کمپنی کی جانب سے گوگل کو ماہانہ ادائیگی نہیں کرنی پڑے گی۔
ایپل کی تمام ڈیوائسز پر گوگل کو مرکزی سرچ انجن کے طور پر استعمال کرنے کے عوض کمپنی ہر سال گوگل کو 12 ارب ڈالر ادا کرتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایپل اور گوگل میں طے کیے گئے اس معاہدے کی میعاد ختم ہونے کو ہے جس کے بعد اس معاہدے میں توسیع کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔
ٹیکنالوجی کی خبروں پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق امریکی محکمہ انصاف میں گوگل کے خلاف دائر کیس کے باعث گوگل ایپل کو مزید سروسز فراہم نہیں کر سکے گا۔
ایپل نے تین سال قبل گوگل کے آرٹی فیشل انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ جان گیانناندیرا کی خدمات حاصل کی تھیں جو اب ایپل کے مشین لرننگ اور اے آئی اسٹرٹیی کے سنیئر نائب صدر ہیں۔
کمپنی کی جانب سے نئے تیار کیے جانے والے سرچ انجن کے بارے میں کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں لیکن کافی عرصے سے ایپل اپنی ڈیوائسز کا انحصار گوگل سے ختم کرنے کی کوششوں میں ہے۔
یاد رہے اس سے قبل ہواوے نے بھی امریکی پابندیوں کے بعد گوگل سروسز تک رسائی نا ہونے کے باعث اپنا پٹیل سرچ انجن متعارف کرایا تھا۔