پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج انٹرنیٹ کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔
پوری دنیا کو گلوبل ویلج بنانے والا انٹرنیٹ آج اپنی 51ویں سالگرہ منا رہا ہے۔
دنیا بھر میں معلومات اور روابط کا آسان اور سستا ترین ذریعہ سمجھے جانے والے انٹرنیٹ 1969 میں متعارف کرایا گیا تھا۔
29 اکتوبر 1969 کو پہلا برقی پیغام بھیجا گیا تھا، اس کارنامے کا سہرا یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ایک طالب علم چارلی کلائن کے سر ہے۔
عالمی سرچ انجن اوکلا نے انٹرنیٹ کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر کے ممالک میں نیٹ اسپیڈ پر ایک نظرڈالی ہے۔
اوکلا کے مطابق ستمبر میں دنیا میں اوسطاً فکسڈ براڈ بینڈ انٹرنیٹ اسپیڈ 85.73 ایم بی فی سیکنڈ رہی جب کہ موبائل انٹرنیٹ کی اسپیڈ 35.96 ایم بی فی سیکنڈ رہی۔
ستمبر 2020 میں فکسڈ براڈ بینڈ انٹرنیٹ اسپیڈ کے حوالے سے سنگاپور پہلے نمبر پر موجود ہے جہاں ہر صارف کو اوسطاً 226.6 ایم بی فی سیکنڈ کی اسپیڈ ملی۔
ہانگ کانگ ہر صارف کو 210.73 ایم بی فی سیکنڈ دے کر دوسرے نمبر پر موجود ہے۔
رومانیہ فکسڈ براڈ بینڈ انٹرنیٹ اسپیڈ کے حوالے سے تیسرے نمبر پر ہے جہاں ہر صارف کو 193.47 ایم بی فی سیکنڈ دیا گیا۔
سویٹزرلینڈ 178.81 کے ساتھ چوتھے اور تھائی لینڈ 175.22 ایم بی فی سیکنڈ کے ساتھ پانچویں نمبر پر موجود ہے۔
فہرست میں سب سے آخر پر یمن اور ترکمانستان رہے۔
یمن اپنے انٹرنیٹ صارفین کو 4.25 ایم بی فی سیکنڈ فراہم کر کے 170ویں نمبر پر رہا جب کہ ترکمانستان 3.4 ایم بی فی سیکنڈ کے ساتھ 171ویں نمبر پر موجود ہے۔
اسی طرح جنوبی کوریا میں اوسطاً اسپیڈ 121 ایم بی فی سیکنڈ رہی۔