ملک میں جاری چینی اور آٹے کے بحران کے پیش نظر حکومت کی طرف سے چینی اور گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے جہاز پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کی درآمد کردہ گندم کا چوتھا جہاز 52 ہزار 170 میٹرک ٹن گندم لے کر پورٹ قاسم پر پہنچ گیا ہے جبکہ مزید 52 ہزار 200 میٹرک ٹن چینی بھی کراچی پہنچ گئی ہے۔
درآمد ی چینی و گندم کے آنے سے توقع ہے کہ ملک میں چینی وگندم کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پایا جا سکے گا۔
اس حوالے سے ٹی سی پی حکام کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے دوران مجموعی طور پر درآمد کی جانے والی گندم میں سے خیبر پختونخوا نے اب تک ایک لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن گندم اٹھا لی ہے جبکہ حکومت پنجاب نے بھی درآمد شدہ گندم سے 56 ہزار 457 میٹرک ٹن گندم حاصل کر لی ہے۔
ٹی سی پی حکام کے مطابق چوتھے جہاز سے آنے والی گندم خیبر پختونخوا حکومت حاصل کرے گی۔
ٹی سی پی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ درآمد شدہ گندم مارکیٹ ریٹ سے کم پر فروخت کی جائے گی اور ٹی سی پی سپلائی سے مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔
واضح اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سمیت وفاقی وزراء چینی و آٹے کے بحران کو مصنوعی اور مافیا کی ملی بھگت قرار دیتے رہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کی طرف سے آٹے و چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ پبلک کرنے کے بعد عندیہ دیا گیا تھا کہ آٹے و چینی بحران کا جو بھی قصور وار نکلا اسے نہیں چھوڑوں گا چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔