وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں دیکھیں گے کس کے ماتھے پرپسینہ آتا ہے اور کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔
گلگت بلتستان کے 73 ویں قومی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے اسکاؤٹس اور شہداء نے قربانیاں دے کر یہ خطہ آزاد کرایا۔
انہوں نے کہا کہ اب تک معیشت ٹھیک کرنے پر فوکس تھا، اب قانون کی بالادستی پر فوکس کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ طاقتور مجرموں کو قانون کے نیچے لے کر آئیں گے، ان ڈاکوؤں کو معاف نہیں کروں گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز پر عدلیہ نے نوازشریف کے حق میں فیصلہ دیا تو ٹھیک ہے، مخالف فیصلہ آئے تو غلط ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ آرمی چیف کے خلاف بول رہے ہیں اور انہوں نے آئی ایس آئی چیف پر بندوقیں تانی ہوئی ہیں۔
عمران خان نے مزید کہا کہ اگر ڈاکو ان دونوں کے خلاف بول رہے ہیں تو اس کا مطلب وہ ٹھیک لوگ ہیں، آج ہم میر جعفر، میر صادق اور میر ایاز صادق کو دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن دھاندلی کا شور مچا رہی ہے، میں نے کہا کہ جتنے حلقے چاہو کھول لو تو یہ بھاگ گئے۔
وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن نے مجھے معیشت اور الیکشن پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی، یہ چاہتے ہیں کہ میں انہیں این آر او دے دوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے خلاف پوری منصوبہ بندی کے ساتھ دہشت گردی ہو رہی ہے جس کے خلاف ہماری سیکیورٹی فورسز کھڑی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آج وہ حال نہیں ہے جس کا شکار کئی مسلمان ممالک ہوئے ہیں، اس کی وجہ سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت صرف دہشت گردی کے ذریعے ہی نہیں بلکہ ملک میں شیعہ سنی انتشار بھی پھیلانا چاہتاھ لیکن میں داد دیتا ہوں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کہ انہوں نے بھارت کے ان عزائم کو ناکام بنایا۔