• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, مئی 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

کورونا کی دوسری لہر، یورپ میں تشدد اور بغاوت کے آثار نمایاں ہونے لگے

by sohail
نومبر 1, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا, کورونا وائرس
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

یورپ میں کورونا وبا کی دوسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے اور اسپتال بھرتے جا رہے ہیں، حکومتیں ہچکچاتے ہوئے کہیں جزوی تو کہیں سخت لاک ڈاؤن نافذ کرتی جا رہی ہیں۔

اطالوی وزیر اعظم جوسیپی کونٹے نے شراب خانوں، ریسٹورنٹس اور چائے کافی کی دکانیں شام 6 بجے بند کر دینے کا حکم جاری کیا جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نومبر میں قوانین کا احترام کریں گے تو وبا پر قابو پانا ممکن ہو سکے گا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے یکم دسمبر تک کے لیے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے اور قوم کو خبردار کیا ہے کہ کورونا کی نئی لہر بہت زیادہ مہلک ہو سکتی ہے۔

پورے یورپ میں سب سے زیادہ تیزی سے بلجیئم میں کورنا وائرس پھیل رہا ہے، وہاں کے وزیراعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے امید کا اظہار کیا ہے کہ 11 ملین عوام سخت پابندیوں کی صورت میں حکومت کا ساتھ دیں گے۔

مارچ میں جب کووڈ 19 نے ان ممالک میں تباہی پھیلانا شروع کی تھی تو عوام شدید بے یقینی اور صدمے کی حالت میں آ گئی تھی اور اپنے اپنے حکمرانوں کے اقدامات کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھی۔

اب دوسری لہر کے دوران یہ صورتحال نہیں ہے، لوگوں کا حکومتوں پر اعتماد اٹھ چکا ہے اور اپنے معاشی مفادات غالب آ گئے ہیں۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پوری دنیا میں رپورٹ ہونے والے نئے کیسز کا نصف صرف یورپ سے سامنے آ رہا ہے۔

اس براعظم میں اب جگہ جگہ مظاہرے اور کہیں کھلی بغاوت جیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں، جمعہ کو فلورنس میں مظاہرین نے پولیس پر پٹرول بم پھینکے ہیں۔

یورپ میں اس وقت معاشی مشکلات اور نفسیاتی تھکن نے مل کر لوگوں کو بیزار کر دیا ہے۔ حال ہی میں عالمی ادارہ صحت نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ لوگوں میں بیزاری اور پبلک ہیلتھ کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

یورپین سینٹرل بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں یورپ میں جو تھوڑی بہت معاشی بہتری سامنے آئی تھی، کورونا کی دوسری لہر کے باعث اس کے خاتمے کا خطرہ ہے۔

اٹلی میں لوگوں کا پیمانہ صبر لبریز ہو چکا ہے، نیپلز میں لوگوں نے مظاہرے شروع کر دیے، میلان اور ٹیورن میں لگژری سٹورز کو لوٹ لیا گیا۔

گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک سروے کے مطابق تین چوتھائی اطالویوں کا خیال ہے کہ سردیوں میں سڑکوں اور گلیوں میں مزید تشدد پھیلے گا۔

Tags: یورپ میں کورونا کی واپسییورپ میں مظاہرے
sohail

sohail

Next Post

شکست کا خوف، صدر ٹرمپ نے انتخابات میں دھاندلی کا خدشہ ظاہر کر دیا

ن لیگ کی ٹوٹ پھوٹ شروع مگر فوجی قیادت بھی مشکلات کا شکار، رؤف کلاسرا کا تجزیہ

جاپان میں نوجوان ورکرز کی قلت، 7 فٹ لمبے ماڈل ٹی روبوٹس کا استعمال شروع

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ بھی قرنطینہ میں چلے گئے

ش، ن اور م لیگ کی باتیں کرنے والے جان لیں ہم اکٹھے ہیں، مریم نواز

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In