یورپ میں کورونا وبا کی دوسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے اور اسپتال بھرتے جا رہے ہیں، حکومتیں ہچکچاتے ہوئے کہیں جزوی تو کہیں سخت لاک ڈاؤن نافذ کرتی جا رہی ہیں۔
اطالوی وزیر اعظم جوسیپی کونٹے نے شراب خانوں، ریسٹورنٹس اور چائے کافی کی دکانیں شام 6 بجے بند کر دینے کا حکم جاری کیا جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم نومبر میں قوانین کا احترام کریں گے تو وبا پر قابو پانا ممکن ہو سکے گا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے یکم دسمبر تک کے لیے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے اور قوم کو خبردار کیا ہے کہ کورونا کی نئی لہر بہت زیادہ مہلک ہو سکتی ہے۔
پورے یورپ میں سب سے زیادہ تیزی سے بلجیئم میں کورنا وائرس پھیل رہا ہے، وہاں کے وزیراعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے امید کا اظہار کیا ہے کہ 11 ملین عوام سخت پابندیوں کی صورت میں حکومت کا ساتھ دیں گے۔
مارچ میں جب کووڈ 19 نے ان ممالک میں تباہی پھیلانا شروع کی تھی تو عوام شدید بے یقینی اور صدمے کی حالت میں آ گئی تھی اور اپنے اپنے حکمرانوں کے اقدامات کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھی۔
اب دوسری لہر کے دوران یہ صورتحال نہیں ہے، لوگوں کا حکومتوں پر اعتماد اٹھ چکا ہے اور اپنے معاشی مفادات غالب آ گئے ہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پوری دنیا میں رپورٹ ہونے والے نئے کیسز کا نصف صرف یورپ سے سامنے آ رہا ہے۔
اس براعظم میں اب جگہ جگہ مظاہرے اور کہیں کھلی بغاوت جیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں، جمعہ کو فلورنس میں مظاہرین نے پولیس پر پٹرول بم پھینکے ہیں۔
یورپ میں اس وقت معاشی مشکلات اور نفسیاتی تھکن نے مل کر لوگوں کو بیزار کر دیا ہے۔ حال ہی میں عالمی ادارہ صحت نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ لوگوں میں بیزاری اور پبلک ہیلتھ کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
یورپین سینٹرل بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں یورپ میں جو تھوڑی بہت معاشی بہتری سامنے آئی تھی، کورونا کی دوسری لہر کے باعث اس کے خاتمے کا خطرہ ہے۔
اٹلی میں لوگوں کا پیمانہ صبر لبریز ہو چکا ہے، نیپلز میں لوگوں نے مظاہرے شروع کر دیے، میلان اور ٹیورن میں لگژری سٹورز کو لوٹ لیا گیا۔
گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک سروے کے مطابق تین چوتھائی اطالویوں کا خیال ہے کہ سردیوں میں سڑکوں اور گلیوں میں مزید تشدد پھیلے گا۔